
یاسمین اسلم
"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیا خیر ہی لاتی ہے "6117 صحیح بخاری 37صحیح مسلم( کتاب الایمان )
خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔۔۔
"ایمان کی 60 سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیا ایمان کی ایک شاخ ہے "( ابوہریرہ 9 صحیح بخاری35) ۔
حیا ایمان کا حصہ ہے انسان کو گناہوں برائیوں اور بے حیائی سے روکتی ہے ،اسی لیے خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا" حیا کا نتیجہ ہمیشہ خیر ہی ہوتا ہے" اسلام دین فطرت ہے اور حیا انسان کی فطرت میں شامل ہوتی ہے ،وقت اور حالات اور اس کا ماحول اس کو برائی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
ہمارا دین بہت پیارا دین ہے، اللہ رب العزت نے انسان کو دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے ایک پورا ضابطہ حیات دیا ہے ، محرم اور نامحرم کی حدود مقرر کیں ۔پر دےکے احکام نازل فرمائے۔اسلام نے ایک سے زائد بیویوں کی اجازت دی عدل کی شرط کے ساتھ ،یہ اجازت نفسانی خواہش اور فحا شی کے فروغ کے لیے نہیں دی بلکہ خاندانی نظام کے تحفظ کے لیے ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے اور معاشرے میں پاکیزگی اور توازن قائم رکھتا ہے۔ حرام اور حلال کی حدود مقرر کیں ۔ نکاح یا رشتوں کی حرمت اور حلت ہو یا تعلقات، معاملات اصل معیار صرف قران کریم ہے۔قران مجید نے حیا کو صرف ایک صفت نہیں بلکہ ایک عمل اور رویے کے طور پر پیش کیا ہے ۔
حضرت موسی علیہ السلام کے واقعے میں اس کا حیا کا تذکرہ اس طرح سے کیا گیا کہ( ان دونوں میں سے ایک عورت حیا کے ساتھ چلتی ہوئی موسی علیہ السلام کے پاس آئی ) سورہ قصص آیت نمبر 25 ۔یہ آیت بتاتی ہے کہ حیا انسان کے لباس چال ڈھال اور شخصیت سے جھلکتی ہے۔ظاہری ستر پوشی کے ساتھ اللہ رب العزت نے" حیا" کی اصل روح کو تقوے کے ساتھ جوڑا ہے ۔
قران کی نظر میں حیا صرف لباس تک محدود نہیں بلکہ یہ نگاہ کی پاکیزگی گفتگو کے لہجے دل کی کیفیت کا نام ہے یہ وہ حصار ہے جو انسان کی عزت اور آبرو کی حفاظت کرتا ہے ۔۔حیا کا یہ بنیادی تصور دور حاضر کے معاشرتی بگاڑ کو ٹھیک کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے ،اللہ رب العزت ہم سب کو دور دجل کے ان فتنوں سے محفوظ رکھے ۔آمین




































