
نگہت پروین
برکت والے مہینوں میں یہ بھی ایک مبارک مہینہ ہے جسے شعبان المعظم کہا جاتا ہے اسے "طہر حبیبا لرحمن "بھی کہتے ہیں۔ یہ دو
مبارک مہینوں رجب اور رمضان کے درمیان آتا ہے، اس لیے اس کو دو مقدس ہمسایوں کے قرب کا شرف حاصل ہے ،اس ماہ کی بزرگی او برتری کے متعلق یہ کہہ دینا کافی ہے کہ اس کے متعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا !!!شعبان کو باقی تمام مہینوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسے مجھ کو تمام انبیاء کرام پر ۔۔۔
حضور اکرم صلی علیہ وسلم نے اس مہینے کی نسبت اپنی طرف فرمائی اور ارشاد فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے، اس سے اندازہ کریں جس چیز اور مہینے کی نسبت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف فرمائیں تو اس کی کتنی فضیلت ہوگی ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رجب کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم یوں فرماتے تھے کہ *اللہ رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمارے لیے برکت عطا فرما اور خیریت کے ساتھ ہم کو رمضان تک پہنچا ئے ۔شعبان کا مہینہ بہت بابرکت ہے ،اس کی فضیلت احادیث میں کثرت سے آئی ہیں ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں اتنے زیادہ روزے رکھتے کہ صحابہ کہتے کہ اب آپ افطار نہ کریں گے، کبھی افطار کیے جاتے یعنی روزہ نہ رکھتے، یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ روزہ نہیں رکھیں گے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی مہینے میں شعبان کے مہینے سے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینے میں کمر کس لیتے تھے ،یہ رمضان کی تیاری کا طریقہ تھا، 15 شعبان کے بعد روزہ رکھنے کو رسول اکرم منع کرتے تھے، اس لیے کہ طاقت موجود رہے اور رمضان کے فرض روزے پورے ہو جائیں۔




































