
نگہت پروین
پارہ 5سورہ النساء (آیت 43 )۔
ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب
نہ جاؤ اس کے بارے میں دو روآیات وارد ہوئی ہیں جن میں مہاجرین میں حضرت علی اور عبدالرحمٰن بن عوف اور انصار میں سے سعد بن معاذ شریک واقعہ ہیں ۔
ابن ابی حاتم :یونس ابن حبیب ،ابو داؤد،معصب بن سعد وہ اپنے والد سعد سے روایت کرتے ہیں کہ میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئی ہیں ۔
ایک دفعہ ایک انصاری نے دعوت طعام کی ،اس نے کچھ مہاجرین اور کچھ انصار بلائے، ہم نے کھانا کھایا ،یہاں تک کہ ہم مدہوش ہو گئے پھر اپنے اپنے بارے میں مفاخر بیان کرنے لگے ۔ایک شخص نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی لی اور سعد کی ناک پر دے ماری ،چنانچہ سعد مغرورالائف تھے یہ واقعہ شراب نوشی کی حرمت سے پہلے کا ہے ۔
ابن حاتم ،ابن عمار ،عبدالرحمٰن ،ابن عبداللہ و تشکی،ابو جعفر ،عطا،عبدالرحمٰن کی سند سے حضرت علی سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف نے ہمارے لیے کھانا تیار کروایا، ہمیں دعوت دی اور شراب پلائی ،نماز کا وقت ہو گیا لوگوں نے فلاں کو آگے کیا، اس نے نماز پڑھائی (یا ایہا الکافرون ما اعبدو ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون)
اس پر اللہ نے یہ آیت نازل کی :یا ایہا الذین ۔
قرآن کریم نے اس بری عادت کو چند آیات نازل کر کے جڑ سے اکھاڑ پھینکا ۔نہایت نرمی ہمدردی اور تدریج کے ساتھ نہ جنگ لڑی ،نہ کوئی معرکہ ہوا، ناخونریزی(سورہ نحل ایت67)۔
ترجمہ ::پھلوں کھجور اور انگور جس سے تم شراب اور رزق حسن حاصل کرتے ہو ۔
(سورہ بقرہ ایت219)۔
ترجمہ. آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں، اس میں نفع کم اور گناہ زیادہ ہے ۔نماز اللہ تعالی کی خالص عبادت ہے جس میں بندہ اپنے آپ کو کل کا کل اپنے رب کے سپرد کر دیتا ہے۔ شراب بہکانے کا کام کرتی ہے، لہٰذا شراب پی کر نماز پڑھنے کی قران میں ممانعت آچکی ہے۔




































