
نگہت پروین
اس اجتماع عام کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا مقصد یہ ہے"بدل دو نظام" آج پاکستان کی صورتحال اچھی ترقی یافتہ اورپاکیزہ
معاشرے جیسی نہیں کیونکہ جس حکومتی نظام میں عوام کے بنیادی حقوق اور ضرورتوں کا فقدان ہو وہاں عوام کی زندگی بیچارگی کی سی ہے اور یہاں فرسودہ نظام جو 70 سال سے چلا جا رہا ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ، 17سال سے سندھ میں ایک ہی پارٹی کی حکومت چل رہی ہے مگر عوام کے مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ عوام ضروریات زندگی سے محروم ہیں اور اس فرسودہ نظام سے چھٹکارا پانے کے لیے اس اجتماع کو پر امید نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔
عوام کے مسائل تعلیمی سہولیات ہیں مگر آج تعلیمی اداروں کی ابتر صورتحال ہے جہاں لڑکیوں کی عزت بھی محفوظ نہیں۔لوگوں کی جان و مال کی حفاظت اس کے لیے پولیس کا محکمہ حکومت نے قائم کیا مگر اس محکمے میں رشوت والے آزاد اور غریب اندر ہیں۔صحت کی سہولتوں کا بھی شدید فقدان ہے ۔نہ تو صاف پانی دستیاب ہے، ٹینکر مافیا ازآزاد ہے ،دوائیں مہنگی ہیں ،ہسپتال میں ایک لاکھ روپے جمع کراؤ تو آپ کا مریض لیں گے، ورنہ مریض اللہ کے حوالے ۔سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اس پر ای چالان کا ناجائز بوجھ عوام پر لاد دیا گیا گیا ہے۔ شہریوں کو انصاف دستیاب نہیں ، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مترادف نظام ہے ۔مجرم دندتے پھر رہے ہیں ۔
گاؤں گوٹھ میں زمیندار بادشاہ ہے اور ہاری اس کا غلام ،یہ صدیوں کی کہانی ہے جہاں لڑکیوں کی قدر اور عزت نہیں۔یہ نظام کب بدلے گا اور کیسے بدلے گا ؟ یہ سوال ہے ۔ ان شاءاللہ یہ اجتماع عام "بدل دو نظام" عوامی طاقت اس نظام کو بدلے گا۔




































