
نگہت پروین
ہر کام سے پہلے سوچنا اچھی بات ہے
مگر صرف سوچنے سے ہی کام نہیں ہوتا
اجتماع عام 21 ،22 ،23 نومبر کو مینار پاکستان پر منعقد ہو رہا ہے ۔اس پرآنے نظام میں ہر
ادارے یعنی انصاف ،تعلیم،زراعت ،صنعت و حرفت میں تبدیلی ضروری ہے۔ایک ول والا پر جوش ہے کہ شریعت اورانصاف کے نظام کو قائم کرنے، اپنی تہذیب اور ثقافت کے نظام کو قائم کرنے کے لیے اس اجتماع میں شرکت اس کے دل کو ڈھارس دیتی ہے کہ جب نوجوانان پاکستان اور پورے پاکستان کے عوام یک زبان ہوکر ہمت اور فرض نبھاتے ہوئے اس پرانے نظام کو بدلنے کے لیے جمع ہوں گے تو ان شاءاللہ قوت اور طاقت تو عوام کی ہوگی اور مدد اور نتیجہ اللہ کا گا ا،ن شاءاللہ
جو لوگ ہار مان لیتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے
اور جو جیتنے کی ٹھان لیں انہیں کوئی ہرا نہیں سکتا
آج پاکستان کا نوجوان حالات اور نظام کی چکی میں پس کر ہارنے والا نہیں، اس صورتحال نے اسے اور اس کے ارادوں کو فولاد بنا دیا ہے، وہ ہار ماننے والا نہیں، جیت کر بازی پلٹنے والوں میں سے ہے، فرسودہ نظام جہاں قران میں سورہ بنی اسرائیل کے خدائی قانون کے 14 نکات قائم نہ ہوں ، ہم عوام اس نظام کو بدلیں گے، اس کے لیے جان ،مال ،وقت خواہش یہ سب اسباب ایک تحریک کا خاصہ ہوتے ہیں اور اس تحریک کا سربراہ جب عملی نمونہ ہے تو نوجوانان پاکستان اور پاکستانی عوام اس اجتماع عام میں ان کا ساتھ دینے کا عہد کرنے کے لیے اس میں شرکت کو اپنا اعزاز سمجھیں گے۔
کایات شیخ سعدی
میں پوری زندگی دو بندوں کو تلاش کرنے پر بھی تلاش نہ کر سکا، ایک وہ جس نے اللہ کے نام پر دیا ہو اور وہ غریب ہو گیا ہ،و دوسرا وہ جس نے ظلم کیا ہو اور اللہ کی پکڑ سے بچ گیا۔اگر اپنے ملک کو اللہ کے دیے ہوئے نظام پر چلاتے تو کبھی غریب نہ ہوتے، کشکول لے کر غیروں کے پاس نہ جاتے ، اپنی عزت نااور ظلم کا نظام کرپٹ نظام قائم کیا تو اس ظلم کا حساب تو دینا ہی ہوگا ۔
اجتماعیت کی خاصیت اور برکت یہ ہے کہ ایک دوسرے سے محبت اور قدر کا احساس ہوتا ہے ،اجتماع عام میں قافلوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے بڑے بڑے پوسٹرز اور بل بورڈ زآویزان ہیں جن پر"بدل دو نظام " لکھا ہے، اس پیغام کو ہم پاکستانی عوام لبیک کہتے ہیں۔
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )




































