
نگہت پروین
اجتماع عام اکیس ،بائیس اورتئیس نومبرکو مینار پاکستان پر منعقد ہو رہا ہے ،یہ وہ تاریخی جگہ ہے جہاں قرارداد پاکستان بھی
منظور ہوئی تھی۔
اس اجتماع کی تیاریاں جاری ہیں ۔ مینار پاکستان پرا یک پوری بستی بسائی جاتی ہے، یوں لگتا ہے کہ جیسے اس کے انتظامات لوگوں نے نہیں بلکہ فرشتوں نے کیے ہیں۔ پاکستان بھر کے ہر صوبے سے افراد یہاں جمع ہوتے ہیں ،ان کے ٹھہرنے کا انتظام کرنا ا،ن کو گائیڈ کرنا ا،ن کے کھانے اور پینے کا انتظام کرنا، یہ سب کوئی آسان کام نہیں ہوتے ، مگر ایک بڑے مقصد کے حصول کے لیے نظام کو بدلنے کے لیے ہمارے تمام کارکنان اور خصوصاًنوجوان اس میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔ ہر صوبے کے لیے ان کے کیمپ موجود ہوتے ہیں، لوگوں کا سامان مقررہ جگہ پر پہنچا کر ہر طرح کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ واش روم کے انتظامات ،وضو خانے کے انتظامات، اسٹالزلگانا ،تمام بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اس اجتماع کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں غیر ممالک سے مندوبین بھی آتے ہیں۔
کسی نظام کو بدلنے کے لیے قوت ،طاقت اور صلاحیت کی جو ضرورت ہوتی ہے، وہ پاکستانی نوجوان میں بدرجہ اتم موجود ہے، پاکستانی عوام اسلامی نظام چاہتے ہیں، جہاں عدل و انصاف کا دور دورہ ہو ،جہاں کسی پر ظلم نہ ہو، جہاں امیری اور فقیری کا کوئی شائبہ نہ ہو ،جہاں ہر ایک کو اس کا حق مل رہا ہو، جہاں اللہ کے احکام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور قران پاک کی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کرنے کے مواقع موجود ہوں۔
دل میں خدا کا ہونا لازم ہے اقبال
سجدوں میں پڑے رہنے سے جنت نہیں ملتی
محنت جدوجہد اور لگن مقصد کی کامیابی کی کنجیاں ہیں اور اس مقصد کو حاصل کرنے اور تباہ حال نظام کو ایک نئی زندگی دینے کے لیے ہر ادارے یعنی انصاف،تعلیم ،زراعت ، صنعت و حرفت،بینکنگ ،سیاست اور خاندانی نظام میں تبدیلی بہت ضروری ہے۔ ہمارے نوجوان اور تمام عوام اس اجتماع میں شرکت کر کے نظام بدلنے کی جدوجہد میں شریک ہوں ۔اس اجتماع عام کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں کوئی خاص صوبہ، خاص زبان، خاص ملک نہیں بلکہ دعوت عام ہے اور اس دعوت عام میں شرکت ہمارے لیے عزت کی بات ہے ۔
اے مینار پاکستان تو گواہ رہنااللہ نے انسان کو پیدا جس مقصد کے لیے کیا تھا اسی مقصد کے تحت اج ہم یہاں جمع ہوں گے
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں




































