
نگہت پروین
لیاقت علی خان یکم اکتوبر 1895 میں بہارکے ضلع کرنال میں پیدا ہوئے, انہیں مذہب سے
بہت لگاؤ تھا ۔وزش اور کرکٹ کے شوقین تھے، لیاقت علی خان نے پاکستان بنانے میں قائد اعظم کا ساتھ دیا ،وہ ان کے بہترین دست راست تھے۔
قائد اعظم نے انہیں پاکستان کا پہلا وزیراعظم بنایا اور لیاقت علی خان نے یہ ذمہ داری بخوبی نبھائی۔ انہوں نے پاکستان کے خواب کو عملی تعبیر دینے کے لیے مطالبہ پاکستان کو سمجھا اور اس کے حصول کے لیے عملی طور پر ڈٹے رہے۔ وہ سیاست میں تجربہ کار آدمی تھے، وہ دیکھ رہے تھے کہ مسلمانوں کے حقوق ہندوؤں کے ہاتھوں کچلے جا رہے ہیں ،اس لیے قائد اعظم کے ساتھ مل کر پاکستان کو وجود میں لانے اور آزادی حاصل کرنے کے لیے معاون و مدد گار رہے ۔وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکرٹری بھی رہے۔
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
لیاقت علی خان نے علی گڑھ یونیورسٹی سےبی اے کی تعلیم حاصل کی اور پھر آکسفورڈ یونیورسٹی سے 1921 میں بیرسٹری کی سند حاصل کی۔
لیاقت علی خان رستم علی خان کے دوسرے بیٹے تھے، ان کے دل میں مسلمانوں کا بہت درد تھا 1937 سے 1947 تک قائد اعظم کے سیکرٹری رہے۔
قوم نے آپ کی خدمات پر آپ کو "قائد ملت "کا خطاب دیا۔آپ نے امریکا کا دورہ کیا اور وزرائے اعظم کے کانفرنس میں شامل ہو کر پاکستان کی حقیقت کو عالمی طور پر منوایا ،اس طرح عالمی برادری میں پاکستان کا سر بلند کیا ۔16 اکتوبر 1951 کو لیاقت باغ میں آپ تقریر کرنے والے تھے اور آپ نے صرف اتنا کہا کہ میرے پیارے پاکستانی بھائیو!۔۔۔۔کہ ایک شقی القلب شخص نے پستول سے فائرنگ کی ۔۔ کئی گولیاں آپ کے سینے میں لگیں جس کے نتیجے میں آپ دار فانی سے کوچ کر گئے۔
قوم آپ کو "شہید ملت "کے نام سے یاد کرتی ہے۔آخری وقت آپ کی زبان پر یہ جملہ تھا خدا پاکستان کی حفاظت کرے ۔




































