
نگہت پروین
صحافت جان جوکھوں کاکام ہےاورصحافت سچ اورحقیقت کا کام ہے،غزہ کےمردمجاہد صحافی صالح الجعفراوی نے اپنے اس منصب سے
انصاف کیا،وہ غزہ کی بگڑتی صورتحال میں عمارتوں کی تباہی،لوگوں کی شہادتیں،لوگوں کی بھوک اور پیاس سےبگڑتی حالت یعنی ہر طرح کی صورتحال کو اپنے کیمرے کے ذریعے دنیا کے سامنے لایا اور دشمن جو جوہری ہتھیاروں کا استعمال کر کے سمجھتا تھا کہ دنیا اس کا اصل چہرہ نہ دیکھ سکے گی، وہاں اس صحافی نے ان کی اصلیت دکھانے میں دیر نہیں کی۔
صالح الجعفر اوی قرآن حافظ تھے۔انہوں نےاپنی توانائیاں غزہ کے عوام کے ساتھ ظلم ،بربریت اورناانصافی کوتمام دنیا کےسامنےلانےمیں صرف کیں ۔ان کے پیغامات فلسطین کے عوام کی ہمت بندھاتے تھے کہ اسرائیل ایک لاکھ سال بھی ظلم کرتا رہے، غز ہ اور فلسطین استقامت کا استعارہ بنے رہیں گے اور وہ اس کی ہمت کو نہیں توڑ پائے گا ۔اہل غزہ القدس کی آزادی تک ڈٹے رہیں گے اور ناکامی تمہارا مقدر ہوگی ۔
سلام ہے اس جانباز پر جو زندگی کا مقصد پا کر شہید ہوا اور شہید کا مقام تو جنت ہے ۔




































