
نگہت پروین
(سورہ آل عمران پارہ 4 ایت 186 )
ترجمہ :مسلمانوں تمہیں مال اور جان دونوں کی آزمائشیں آکر رہیں گی اورتم اہل کتاب اورمشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے، اگر ان
سب حالات میں تم صبر اور خدا ترسی کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلے کا کام ہے ۔
قران پاک اللہ تعالی کی اخری کتاب ہےجس میں پوری زندگی کےلیےہدایات موجود ہیں اوران ہدایات پرچلنےاورنہ چلنےکےانجام کو بھی بتا دیا اور نیکی اور بدی دونوں کے راستےبھی دکھادیے،یہ کتاب تمام دنیا کے انسانوں کےلیےہے،مگر اس میں امت محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم یعنی مسلمانوں کو کامیابی کےلیے امیدوں اور ناکامی میں تسلی بھی موجود ہے.
سورہ آل عمران کی آیت غزہ اورفلسطین کی صورت حال میں دنیا کےمسلمانوں کو جھنجھوڑرہی ہے،اس آیت نےکس کوغفلت سےجگایااورکون اس کو پڑھ کرسمجھ کر بھی اندھا بنا ،غفلت میں پڑا رہا، وہ ہم سب دیکھ رہے ہیں ۔
اللہ تعالی تو قران پاک میں یقین دلا رہا ہے اور واضح طورپہ بتا دیا کہ انسان کی پیدائش کا مقصد آزمائش ہےاوراہل کتاب اورمشرکین زندگی میں جب مسلمانوں کے مقابلہ میں آئیں گے تو تکلیف ،مشکلات ،دکھ ،جنگ اور جہاد جیسی آزمائشیں ائیں گی اور وہ مسلمانوں کو نیچا دکھانے اور پسپا کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے بھی استعمال کریں گےاوردیکھیےکہ غز ہ اور فلسطین میں اس یہ کردار کھل کر سامنے آیا کہ اس نے بھوک اور پیاس کا حربہ استعمال کر کے غز ہ کہ مسلمانوں بچوں اور بڑوں کوشہید کر دیا ۔اللہ تعالی اس آیت میں ہمت بندھا رہا ہے ،امید دلا رہا ہے اور وہ راہ بھی دکھا رہا ہے جس کو اپنا کراپنےحوصلوں کے ساتھ صبر کےساتھ مسلمان اپنی منزل کو پا لیں۔
پھر آج مسلمان کیوں اسفلہ سافلین بنے ہیں ؟
وجہ یہ ہے کہ قران کو سمجھا نہیں ،آیات پر غور و فکر چھوڑ دیا، آخرت کو بھول گئے حالانکہ علامہ اقبال نے تو کہا کہ
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
تو آج سخت ضرورت ہے کہ قران سے تعلق جوڑیں۔




































