
بنت اسماعیل
ماں۔۔۔جب میں یہ لفظ لکھتی ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے محبتوں اور قربانیوں کے ایک گھنے جنگل میں قدم رکھ دیا ہو۔ ہر طرف سکون ہی سکون ہوتا
ہے اور دل کی ہر تکلیف، ہر پریشانی جیسے اس دنیا سے کہیں دور، بہت دور گم ہو جاتی ہے۔ماں کی گود صرف ایک سہارا نہیں بلکہ ایک ایسی محفوظ پناہ گاہ ہے، جہاں دل کو حقیقی سکون ملتا ہے۔ اس کی آواز بھی ایسی ہے جو انسان کو خوابوں کی ٹھنڈی اور نرم وادی میں لے جاتی ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں،واقعی ماں کا ہونا ہی غموں کا مداوا ہے۔
جب کبھی دل اداس ہو، کوئی دکھ اندر ہی اندر انسان کو توڑ رہا ہو، تو اچانک ماں کا فون آ جاتا ہے“میرے بچے، کیوں پریشان ہو؟ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔”یہ ایک جملہ دل ایسا سکون دیتا ہے کہ انسان بڑے سے بڑے طوفان کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ ماں کو کیسے خبر ہو جاتی ہے کہ اس کا بچہ پریشان ہے؟ یہ وہ راز ہے جو صرف ماں کا دل ہی جانتا ہےلیکن افسوس! ماں سے جدائی صرف موت سے نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات حالات اور ذمہ داریاں بھی اسے ہم سے دور کر دیتی ہیں۔
بیٹیاں شادی کے بعد اور بیٹے رزق کی تلاش میں ماں سے دور ہو جاتے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے ایک ایک پنچھی اپنے گھونسلے سے اڑتا جا رہا ہو اور ماں اکیلی رہ جاتی ہے۔وہ ماں جو کبھی اپنے بچوں کی ہنسی اور شرارتوں سے گھر کو جنت بنا دیتی تھی، اب تنہائی میں اپنے ماضی کی یادوں میں گم رہتی ہے۔ ہر روز وہ کسی فون کال کا انتظار کرتی ہے، شاید اس کا کوئی بچہ اسے یاد کرے، اس کی خیریت پوچھ لے۔
پھر وقت ایسا بھی آتا ہے کہ یہی قربانیوں کا پیکر ماں یادداشت کی کمزوری کا شکار ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے ہی بچوں کو پہچاننے سے قاصر ہو جاتی ہے۔ یہ منظر اولاد کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے کہ سامنے ماں ہو، لیکن اپنی اولاد کو پہچاننے سے بھی عاجز ہو جائے۔یہ زندگی اور موت کے درمیان ایک ایسا مرحلہ ہوتا ہے، جہاں صرف اس کی آواز، اس کی دعائیں اور اس کی محبت باقی رہ جاتی ہے۔
خدارا! اپنی ماں کی قدر کیجئے، اس سے پہلے کہ وقت اسے ہم سے چھین لے، اس کی خدمت، اس کی محبت اور اس کی دعاؤں کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ بنائیے۔اللہ ہمیں اپنی ماؤں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



































