
بنت اسماعیل
ہم نے بچپن سے ہی یہ جملہ پڑھا اور سنا ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ ایک ایسا
ملک جس کی خوشحالی کھیتوں کی ہریالی سے جڑی ہے، مگر افسوس اس زرخیز زمین کے اصل معمار وہ کسان جن کے ہاتھوں کی محنت سے یہ سرزمین لہلہاتی ہے۔ آج خود حالات کے بوجھ تلے پس رہے ہیں۔ بڑے دکھ کی بات ہےکہ کسان جس کے خون پسینے سے کھیت آباد ہوتے ہیں۔ وہ آج کسمپرسی کی تصویر بنا ہوا ہے جو پورے ملک کے لیے رزق اگاتا ہے۔ اس کے اپنے ہاتھ خالی ہیں اور اس کے گھر کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں,یہ کیسا دردناک منظر ہے کہ جو دوسروں کی بھوک مٹاتا ہے وہی اپنی بھوک سے نڈھال ہے۔ جس کے دم سے زمین زرخیز ہے۔ اس کی اپنی زندگی بنجر ہے۔
پاکستان اس وقت تک خودکفیل نہیں ہو سکتا، جب تک زراعت کو ترقی نہ دی جائے اور زراعت تب تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک کسان کی حالت زار کو بہتر بنانے کے حکومتی اقدامات نہ کئے جائیں۔ اس سلسلے میں کسان کے کچھ مسائل کا ذکر بہت ضروری ہے۔موجودہ موسمی تغیرات نے بھی کسان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جن سے فصلوں کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔ کبھی بے وقت بارشیں، کبھی طویل خشک سالی، تو کبھی شدید گرمی کی لہریں، یہ سب اس کی محنت سے اگائی ہوئی فصلوں کو پل بھر میں تباہ کر دیتی ہیں۔
کسان جدید تعلیم سے محروم ہیں۔ جس سے ان کی زندگی میں مزید دشواری ہو گئی ہے۔ حکومت نے نہ صرف زرعی ٹیکس لگا رکھا ہے، بلکہ ذراعت سے متعلق اشیاء کو بھی مہنگا کر دیا ہے۔کسان مہنگائی کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں۔ چنانچہ مہنگائی سے پریشان کسان کھیتی باڑی کی بجائے اپنی زمینیں فروخت کر کے شہر کا رخ کر رہے ہیں۔ اگر یہی حالات رہے تو ملکی زرعی صورتحال بالکل ٹھپ ہو جائے گی۔
وہ کسان جو رات دن کی انتھک محنت سے فصل اگاتا ہے, وہ اپنی فصل کو براہ راست منڈی میں نہیں بیچ سکتا کیونکہ ایک ایسا نظام اس کے گردن میں لپٹا ہوا ہے کہ وہ مڈل مین کے ہاتھوں سستے داموں اپنی فصل کو فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اس کی محنت کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔
حکومت کو چاہئے کہ محض نعروں اور دعوؤں پر اکتفا نہ کرے، بلکہ کسان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات بھی کرے کیونکہ کسان کی حالت سنورنے سے ہی پورا وطن خوشحالی کی چادر اوڑھے گی۔




































