
صنوبر واسطی
پہلا منظر
" قربانی کے جانور کی خدمت کرنا ثواب ہے" جب سے خالد کو یہ معلوم ہوا اس نے یہ طے کیا ہوا تھا کہ اس سال بقرعید پرمیں اپنا
جانور جلد لے آؤں گا ،اس کے لئے اس نے تیاری بھی شروع کردی تھی ،چھت پر چھپر ڈال کر اس نے بکرے کو دھوپ سے بچانے کےلئے مناسب جگہ تیار کرلی اور بقرعید سے پندرہ دن پہلے ہی بکرا لے آیا ۔آج بکرے نے خالد کی چھت پر پہلی رات گزاری تھی ۔صبح دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔جب تک خالد دروازے پر پہنچے اتنے میں پہلے سے بھی زیادہ زور سے دروازہ کھٹکھٹایا گیا ۔ خالد نے لپک کر دروازہ کھول کر دیکھا تو مدمقابل نامانوس سا چہرہ غصیلے آثار کے ساتھ روبرو تھا ۔
یہ منور صاحب تھے پچھلی گلی کے پڑوسی
" رات بھر جس بکرے نے ہماری نیند حرام کی وہ تمہارا ہے "
وہ للکار کر بولے ان کے اس لہجے اور انداز نے خالد کو بھی مشتعل کردیا" میرا گھر ہے تو بکرا بھی میرا ہی ہوگا"
" اگر آج بھی اس بکرے نے ایسے ہی شور مچایا تو قربانی کے دن سے پہلےہی چھری پھیر دوں گا"
ان کی جانب سے اس سخت کلامی کے جواب میں خالد نے تمسخر آمیز انداز میں کہا
" جاو بڑےمیاں اپنا راستہ ناپو دیکھتے ہیں کون مائی کا لال اس پر چھری پھیرتا ہے"
جملہ ختم ہونے سے پہلے ہی خالد نے مزید بد لحاظی دکھاتے ہوئے ان کے منہ پر ہی دروازہ بند کردیا۔
دوسرا منظر
"دروازہ کھولو اور اترو گاڑی سے" یہ ناصر تھا کہنے کے ساتھ ہی ناصر نے ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ بیٹھی خاتون کی طرف کا دروازہ کھول لیا اور لڑنے کے لیے تیار ہو گیا ۔ دروازہ کھلنے کی دیر تھی کہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا نوجوان آگ بگولا ہو کر گاڑی سے اترا اور ناصر کا گریبان پکڑ لیا۔
"تم نے یہ دروازہ کیسے کھولا میری طرف ا کر بات کرو "
لڑائی مغلظات بکنے سے شروع ہوئی ہاتھا پائی کی نوبت آگئی تھی۔
لوگوں نے درمیان میں پڑ کر بیچ بچاؤ کرایا
ٹریفک کی روانی میں خلل پڑ رھا تھا
عدم برداشت اور اخلاقی زوال کی یہ ہماری روز مرہ زندگی سے دو مثالیں ہیں، ہم اور آپ روزانہ اس طرح کے واقعات دیکھتے رہتے ہیں اور اکثر ہم اس کا حصہ ہوتے ہیں ۔ہم میں سے ہر شخص کو اپنے آپ پر اور اہل خانہ پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کتابوں میں پڑھے جانے والے الفاظ عملی زندگی میں شامل کرنے کی ضرورت ہے ۔جیسے صبر برداشت مروت رواداری تحمل برد باری متانت درگزر۔
ہمارے معاشرے کا اخلاقی زوال اپنی حدوں کو چھو رہا ہے،غلطی ہماری ہو یا نہ ہو،صرف خاموشی یا صرف مسکراہٹ یا کوئی معذرتی جملہ بھڑکتے ہوئے غصے کو ٹھنڈا کر سکتا ہے۔بحث سے بچنا،گھر میں بھی نرم الفاظ اور انداز کے ساتھ بات کرنے کی مشق کرنا،سامنے کوئی بھی ہوغصے میں بھڑک کر بات کرنا ندامت اور شرمندگی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔




































