
افروزعنایت
میں ٹیرس میں کھڑی تھی کہ اس شدید گرمی میں سامنے ایک ساتھ ستر سالہ بوڑھے کباڑیے پر نظر پڑی جو پسینےمیں شرابور اپنی
ریڑھی کو آگے کی طرف گھسیٹ رہا تھا، ـ یہ محنت کش صبح سے شام تک اسی طرح گلی گلی گھوم کر آوازیں دے کر اس مہنگائی میں مشکل سے اتنا کمانے کے قابل ہو جائے گا کہ اپنے بیوی بچوں کو دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی کھلا پائے گا ۔ بے شک رزق حلال سے دو وقت روٹی حاصل کرنے پر رب العزت انہیں اجر دے گا۔ ــ یہ محنت کش طبقہ ہماری زندگی میں اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ہمارے سیکڑوں ضرورت کے کام یہی انجام دے سکتے ہیں چھوٹے سے چھوٹا کاریگر مزدور بھی ہمارے لئے اہمیت کا حامل ہے ، اس لئے ان کی قدر اور عزت کرنی چاہیے۔ ـ
الحمدللہ ہمیں آزادی کی شمع روشن کئے ہوئے پچھتر سال سے زیادہ ہوچکے ہیں لیکن اس شمع کی روشنی ہر آشیانے تک پہنچ نہیں پائی ، یقیناً آپ بھی اس بات کی تائید کریں گے کہ اس ارض وطن کی کثیر تعداد سہولیات سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہے جن میں رزق حلال کمانے والا محنت کش طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہے ـ ۔زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم یہ طبقہ کس طرح زندگی بسر کر رہا ہے، اس سے "بڑوں"کو کوئی سروکار نہیں ــ ،دیکھا جائے تو وطن عزیز میں ہر شخص ان بنیادی سہولیات کے لئے پریشان ہے لیکن جیسے تیسے اپنی ضروریات کو پورا کر رہاہے جبکہ یہ محنت کش کم آمدنی والاطبقہ بنیادی سہولیات سے محروم اور کسمپرسی کی حالت میں جی رہا ہے ـ۔
بیرون ممالک میں ایسے لوگوں کو خصوصی مراعات سے نوازا جاتا ہے، خاص طور پر مفت طبی سہولیات ، بچوں کے لئے مفت بہترین تعلیمی نظام اور گزر بسر کے لئے مناسب پنشن کی رقم سے یہ محنت کش طبقہ سکون سے زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتا ہے، ـ ان مراعات کو حاصل کرنے کے بعد یہ سکون سے اپنی ضروریات زندگی پوری کر سکتے ہیں ـــ اس طرح کسی کے آگے انہیں ہاتھ پھیلانے اور غلط راستے پر جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ـ۔




































