
افروزعنایت
ایک خاتون کا یہ کہنا کہ کراچی پیرس ہے ، سب حیران رہ گئے کہ خاتون اپنےحواس میں تھی یا نہیں ؟؟؟
کراچی کا مقابلہ تو آثار قدیمہ کے کھنڈرات سے بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ــ
دو تین مرتبہ موہن جو دڑو اور کچھ دوسرے آثار قدیمہ کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ،شہر سے باہر یہ آثار قدیمہ اور کھنڈرات آج بھی اس علاقے کی قدیم تاریخ کے گواہ ہیں کہ ماضی میں جب انسان نے ابھی ترقی کی منازل بھی طے نہیں کیں تھیں ،اس وقت یہاں کس طرح لوگ زندگی گزارتے ہوں گے، ان آثار کی خصوصیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگرچہ ماضی کے یہ آثار ہیں لیکن ایک بات کے گواہ ہیں کہ اس وقت بھی منظم طریقے سے زندگی بسر کرنے کے لئے انتظامات کیے جاتے ہوں گے ۔نکاسی آب کے انتظامات اور ترتیب سے بنائی گئی سڑکیں دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ صفائی ستھرائی کا کس قدر خیال رکھا جاتا ہوگا جو صحت کے لئے ایک بنیادی اور اہم پہلو ہے ،یعنی عوام کی سہولت اور آرام کے لئے حکومت کی طرف سے خاص انتظامات کیے جاتے تھے ـ۔
آج بھی دیکھا جائے تو یہاں گندگی اور غلاظت نظر نہیں آتی ،یعنی نہ گٹر ابلتے نظر آتے ہیں اور نہ ہی گندگی کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں لیکن فی زمانہ زرا شہر کراچی کے آثار پر نظر دوڑائیں ، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں کھلے بدبو دار گٹر ، جگہ جگہ کیبل اور بجلی کی ٹوٹی پھوٹی لٹکتی تاریں لیکن ان کے درمیان بڑی بڑی عمارتیں گویا دو ادوار کا ملاپ ، یعنی ماضی اور حال ۔۔۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ ان مناظر کو کس دور میں شامل کیاجائے ؟؟؟ کیا دور جدید میں ایسے نظارے کہیں اور نظر آ سکتے ہیں، سوائے ہمارے اس پیرس میں ــ شہر کراچی اس سلسلے میں بازی لے گیا ہے یعنی" نمبر ون" پر ہے




































