
واشنگٹن( ویب ڈیسک ،فوٹو فائل )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جرمن چانسلرفریڈرک مرز کی ایران جنگ پر تنقید کا سخت جواب
دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی ناگزیر تھی تاکہ اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اپنے بیان میں یورپی اور نیٹو اتحادیوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس جنگ کی مکمل حمایت یا عملی شرکت سے گریز کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے جرمن چانسلر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے جوہری عزائم کی سنگینی کو نہیں سمجھ رہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار آ گیا تو پوری دنیا عدم تحفظ کا شکار ہو جائے گی۔ اسی لیے یہ تنازع ناگزیر تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ وہ اقدامات کر رہے ہیں جو دیگر عالمی رہنماؤں کو پہلے ہی کر لینے چاہییں تھے، اور جرمنی کی موجودہ معاشی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔
دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایران کے خلاف جاری فوجی مہم کو غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے تنازعات میں داخل ہونا جتنا مشکل ہوتا ہے، ان سے نکلنا اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے، انہوں نے افغانستان وار اور عراق وار کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے فیصلوں کے سنگین نتائج سامنے آ چکے ہیں۔
جرمن رہنما نے ایرانی مذاکرات کاروں کی تعریف کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ تہران کی حکمت عملی کے باعث واشنگٹن کو سفارتی دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ ایران نے بندرگاہوں پر ناکہ بندی ختم ہونے تک امریکی حکام سے براہ راست مذاکرات کے لیے نمائندے بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔





































