
عریشہ اقبال
کہیں ڈر لگتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے اور کہیں اطمینان دستک دیتا ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے مگر انہیں دو زاویوں میں موجود ایک راز ہے وہ یہ کہ شکر شک کی
نفی کرتا ہے اور ناشکری شک کو پروان چڑھاتی ہے،جب زندگی اس راستے پر آکر ٹھہر جاۓ کہ گناہوں کا بوجھ بڑھنے لگے، وہیں ناشکری کا مرض پیدا ہونے لگتا ہے اصل امتحان یہ نہیں ہوتا کہ ہدایت حاصل نہیں ہوسکتی بلکہ اصل امتحان تو یہ ہے کہ نمازوں کی توفیق ملے مگر نمازیں برائیوں سے کراہیت پیدا کرنا چھوڑ دیں۔
سجدے میں سر تو جھک جاۓ مگر دل جھکنے سے انکار کر دے ،دوسروں کے گناہوں پر نگاہ رہے اور اپنی غلطیاں شرمندہ نہ کریں۔نفس اور روح آپس میں تکرار کریں اور ایک قدم نفس کی طرف پھسل بھی جاۓ تو یہ خیال غالب نہ آۓ کہ کوئی بہت محبت کرنے والا میری اس سے بے وفائی کو دیکھ کر خاموش ہے، وہ مجھے فوری سزا نہیں دے رہا۔یقین کی دہلیز پر قدم رکھیں تو معلوم ہو کہ اللہ جیسی محبت کوئی ابن آدم سے کر ہی نہیں سکتا۔ ہم یقین کی مسافتوں پر چلنے کی خواہش کیوں نہیں رکھتے،ہم پاکیزہ زندگی کے وعدے کو وفا کرنے کے متعلق کیوں خود کو نہیں گھلاتے۔
جتنے رشتے ،جتنے تعلقات،جتنی خوشیاںاور جتنے بھی غم ہمارے ارد گرد موجود ہیں ،وہ ہم سے یہی تو تقاضا کررہے ہیں کہ ہم مہلت کھو رہے ہیں اور اپنے انجام سے قریب تر ہورہے ہیں ۔آج اس دور میں کیا فتنہ ہے کیا نہیں ،یہ پہچان اس وقت تک ممکن نہیں جب تک دل کا آئینہ گناہوں کی گرد سے آلودہ ہے اور اس پر زنگ لگا ہوا ہے۔اس زنگ سے نجات حاصل کرنے کا صرف ایک راستہ ہے بلکہ میری اور آپ کی ہم سب ہی کے راستے کی بس ایک ہی تو منزل ہے ،وہ اللہ ہے یہ نہ سوچیں کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا گناہ بہت ہیں بلکہ یہ سوچیں کہ پلٹنے کا انتظار اس کی شان رحیمی کا عکس ہے کہ وہ موت کی آخری ہچکی تک ہماری توبہ اور رجوع کا منتظر ہے وہ تو فرشتوں سے بھی گناہ کا ارادہ کرنے پر بھی نہیں کہتا کہ گناہ لکھو جب تک کہ اس کا ارتکاب نہ کرلیا جاۓ ۔
ہم اس دنیا کے اندر ہیں جس کی حیثیت مچھر کے پر سے بھی زیادہ حقیر ہے خود کو تھکا نے لگے ہیں، اب بھی وقت ہے خالص آنسووں کا نذرانہ اس کی بارگاہ میں پیش کرکے ان بیڑیوں سے خود کو آزاد کرا لیجیے، یقین جانیں وہ قدردان ہے ،رسوا نہیں کرتا بہترین وفا کرتا ہے ،موتی کی طرح سمیٹ لیتا ہے ،ان اشکوں کی جیسی قدر اس کو ہے شاید ہی کوئی ویسا قدردان ہو ۔بس اس سے نسبت جوڑ لیجیے پھر دیکھیے سکینت کا پروانہ آپ کے ہاتھوں میں تھمانے کے ساتھ ساتھ قبولیت سے آپ کو حیران کردے گا ۔
ہماری عقل کا یہ مقام ہے ہی نہیں کہ ہم اس کی مصلحتوں کو سمجھ سکیں ،بس ہمیں مانگنے میں کمی نہیں کرنی چاہیے یہ زندگی اوراس کا سلیقہ ہی رب سے رجوع کرتے رہنا ہے ،اگر ہم رجوع نہ کریں تو خسارہ ہمارا ہی ہےجبکہ اس کے خزانوں میں کوئی کمی ہے اور نہ ہوسکتی ہے،لہٰذا آج ہی اپنے رب کے سامنے خود کو پیش کیجیے اور سچے دل سے اس کی طرف پلٹ جائیے تاکہ بہت دیر نہ ہوجاۓ۔



































