
عریشہ اقبال
زندگی کی پگڈنڈی پر چلتے ہوئے کبھی قدم سست ہو جاتے ہیں تو کبھی تیز ہونے لگتے ہیں لیکن میں آج اسی پگڈنڈی پر چلتے چلتے ذرا ٹھہر کر سوچنے لگی
کہ آہستہ اور سست ہو جانے کے پیچھے کیا وجہ ہے، اور تیز رفتار ہو جانے کا معاملہ کیا ہے؟
اور اس سوال کے پیچھے موجود احساس نے ہی مجھے اس مقام پر ٹھہرنے کا کہا۔۔۔
میں نے اپنے اندر ایک سرگوشی ہوتی سنی۔وہ سرگوشی ممکن ہے ہر ایک کو سنائی دیتی ہو، مگر میرے لیے وہ ہرگز عام نہیں تھی، کیونکہ اس نے میرے سارے وجود کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اس وقت مجھے وہ احساس ایک آسمانی خط لگ رہا ہے، ایک ایسا خط جس کا پوسٹل ہر انسان کا دل ہوتا ہے مگر اس پوسٹل، یعنی دل پر کون ہے جو اس خط کو لے کر آیا ہے؟
یقیناً اس پوسٹل پر وہ خط ایک ہی ڈاکیہ، یعنی پوسٹ مین لا سکتا ہےکیونکہ پوسٹ مین کے علاوہ کسی کو پوسٹل ایڈریس تک پہنچنے کا نہ تو تجربہ ہوتا ہے اور نہ ہی یہ اس کا کام ہوتا ہےلہٰذا وہ پوسٹ مین / ڈاکیہ ہماری دعائیں ہوتی ہیں۔ میں ہر دعا کی بات نہیں کر رہی، بلکہ ہر اُس دعا کی بات کر رہی ہوں جس کی شدت پر آنکھیں برس پڑتی ہیں، جس کی تاثیر سے دل تڑپ اٹھتا ہے۔
جس کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ آپ سوچے سمجھے بغیر، بالکل خالص ہو کر، لفظوں کا سہارا نہیں لیتے، بس بے اختیار، بے دھڑک اپنی پریشانیاں، اپنا غم، اپنا درد کہہ سناتے ہیں۔
آپ بتا رہے ہوتے ہیں کہ
میں تھک گئی ہوں
میں بکھر رہی ہوں
مجھ سے قوت جاتی محسوس ہو رہی ہے
میں چاہ کر بھی خود پر ضبط نہیں رکھ پا رہی
آخر میں اتنی بے بس ہو چکی ہوں کہ دامن، ہاتھ، جھولی—سب تیرے سامنے پھیلا کر تجھے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتی ہوں۔۔۔اور یہی وہ آسمانی خط ہے جو اگر قبول ہو جائے تو پھر گناہ نظر آنے لگتے ہیں—دوسروں کے نہیں، اپنے۔
بندہ بے ضرر ہونے لگتا ہے، ایسا بے ضرر کہ جس نے مجھے توڑا، وہ رب تو اس کا بھی ہے اور میرا بھی ہے تو میں اس رب سے کہوں کہ تو میری غلطیوں کا حساب مجھ پر ظاہر نہیں کرتا، تو میرے گناہوں کی سزا فوراً نہیں دے دیتا، تو مجھ سے نعمتوں کو چھین نہیں لیتا، تو آخر میں تیرے ہی بندے کو تیری ہی خاطر معاف کیوں نہ کروں؟
تاکہ میں حق نہ سہی، کم از کم اپنی نظروں میں تو اتنا نہ گر جاؤں کہ تو تو مجھ پر عطا کرتا رہے، مگر میں اپنی خطاؤں کے بوجھ میں مزید اضافہ کرکے اس پگڈنڈی پر اپنے قدموں کی رفتار کو مزید آہستہ کر دوںاور جب ہم اپنی رفتار کو سست پاتے ہیں تو ایک ہی خدشہ سب سے بڑا اور یقینی ہوتا ہے کہ ہم منزل تک وقت پر نہیں پہنچ سکیں گے، یا راستے میں ہی رک جائیں گے، یا پھر راستہ تبدیل کر لیں گے۔
آج اس لمحے اس سوال کو سوچ کر میں نے یہ عجیب کیفیت محسوس کی کہ ہاں، واقعی ہماری دعائیں ہی تو وہ پوسٹ مین ہیں جو اس دل، یعنی پوسٹل ایڈریس تک چل کر آتی ہیںاور ہمارا رب ہمیں آہستہ آہستہ سمجھاتا اور بتاتا ہے کہ اے میرے بندے! تم تھک مت جانا، میرا وعدہ سچا ہے۔ میں آزمائش کی سختی میں کوئی نہ کوئی ایسی کھڑکی کھلی رکھوں گا جہاں سے رحمت کی ہوا آئے گی۔
تم سے لغزش ہو بھی جائے تو میں ان دعاؤں کو اسی لیے سنبھال کر رکھتا ہوں تاکہ یہ تمہارے دل پر دستک دے کر ایک بار پھر تمہیں مجھ سے جوڑ دیں، تاکہ تمہارے سست پڑتے قدم اس پگڈنڈی پر پھر سے تیز ہو جائیں، اور تم کشاں کشاں میری طرف چلے آؤ۔
یہ دنیا اور یہ سرو سامان یقیناً الجھانے کے لیے ہے،یہ گناہ اور یہ چند لمحوں کی لذتیں تمہارا راستہ تبدیل کرنے کے لیے ہی ہیں مگر جان رکھو، اگر دعاؤں میں اخلاص موجود رہے گا تو یہ ڈاکیہ ہر ضرورت کے وقت تمہارے پوسٹل پر پہنچ کر تمہاری ڈھال ضرور بنے گا۔ کوئی نہ کوئی سگنل، یا اطمینان کے آنسو، تمہیں قبولیت کا آسمانی خط ضرور پہنچائیں گے۔
بس یہ دعاؤں کا سلسلہ رکنا نہیں چاہیے—سخت پہرے بٹھا لو کہ یہ رابطہ ٹوٹنے نہ پائے۔تاکہ ہمارا انجام ہمارے لیے خوشخبری بن جائے۔
آمین یا رب العالمین۔۔۔




































