
عریشہ اقبال
زندگی سے بندگی تک کا سفر بظاہر بہت دشوار گزار راستہ معلوم ہوتا ہے، مگر جب منزل تک
پہنچنے کا فیصلہ کر لیا جائے اور ارادہ مضبوط ہو، تو کوئی بھی مشکل راستہ روک تو سکتی ہے، مگر اس میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔
رمضان المبارک کے 28ویں روزے کا آغاز ہو چکا ہے، وقت ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل رہا ہے، مگر ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی بکھری ہوئی زندگی اور منتشر ہوئے معاملات کو کتنا سمیٹ سکے ہیں۔ گھر کی چار دیواری میں اگر دیواریں بڑی ہوں اور فرش بڑا ہو لیکن سلیقہ اور ترتیب سے خالی ہو، تو وہ گھر گھر نہیں لگتا۔ اسی طرح ایک ایمان رکھنے والے شخص کی زندگی اللہ سے تعلق اور اس کی محبت کے احساس کے بغیر ادھوری اور نامکمل ہے، جیسے کسی تصویر میں پھولوں کا عکس بنا ہو مگر وہ پھول رنگ سے خالی ہوں، تو بے رنگ تصویر کسے اچھی لگے گی۔
بالکل اسی طرح اللہ نے ہماری زندگی کے باغ کے لیے صِبْغَتَ اللہ کا انتخاب کیا ہے، تاکہ تقویٰ اور پرہیزگاری کی بنیاد اس قدر مضبوط ہو جائے کہ رمضان گزرنے کے بعد بھی ہمارے نفس کو شکست دینے کی صلاحیت ہمارے اندر موجود ہو۔
سورۃ الکہف میں جہاں پناہ کے حوالے سے ایک غار کا ذکر ہے، وہیں میرے اور آپ کے لیے انتہائی اہم اور توجہ طلب نصیحت ہے کہ ہمیں بھی اس دور میں ایک ایسے غار کی ضرورت ہے، جیسے اصحابِ کہف کو پیش آئی تھی اور اللہ نے ان کی ضرورت کا سامان کیا تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ وہ غار کہاں ہے؟ اور ہمیں کیسے ملے گا؟جواب بھی وہیں موجود ہے، جہاں سے سوال اٹھا ہے کہ اصحابِ کہف کو بھی دعا کی قبولیت کی صورت میں وہ غار اور اس کا پتہ ملا تھا، یعنی ان کی طلب میں صدق اور ان کے مانگنے میں تڑپ موجود تھی۔ نصف رمضان گزر چکا ہے اور ہم نے مانگنا سیکھا یا نہیں، یہ فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے۔
کمر کو کس لیجیے، ایام گزر جائیں گے، تھکاوٹ کا بوجھ بھی ہلکا ہو جائے گا، مگر اجر اور توفیقِ استقامت باقی رہتی ہے۔ اسی لیے اپنی کمر کس لیجیے اور توانائی کو تازہ دم کر لیجیے، تاکہ میں اور آپ اپنے رب سے دوستی لگا کر اس کا ساتھ پا سکیں۔ جب ہم اس کا ساتھ حاصل کر لیں گے، تو ہر خیر ہمارا مقدر بن جائے گی۔ جس تقدیر کے الجھ جانے یا بگڑ جانے کا خوف ہم پر سوار رہتا ہے، اس خوف سے آزادی کا راز خود کو اللہ کے حوالے اور اس کے سپرد کرنے میں پوشیدہ ہے۔
آئیے، ان ساعتوں میں پوشیدہ قبولیت کے موتیوں کو چن لیں۔
آئیے، ہم اپنے کھوئے ہوئے رب کو پا لیں۔
آئیے، ہم پھر سے کمر بستہ ہو جائیں اور شدت سے اپنے رب کے رنگ میں رنگ جانے کے لیے اس کے حضور گڑگڑائیں۔
اے ربی! ہمیں ایمان کے ساتھ اور سلامتی کے ساتھ لیلۃ القدر تک پہنچا دے۔
اے پیارے اللہ! اپنی رحمت اور مغفرت کے خزانے میں سے ہم تہی دامنوں کو، ہماری خالی جھولیوں کو بھر دے۔
اے اللہ! ہمیں جہنم سے نجات اور جنت کی خوش خبری عطا فرما دے۔
اُمت کے مظلوموں کی پکار پر لبیک کہنے والا دل اور ان کے لیے دھڑکنے والی دعائیں عطا فرما دے،آمین اللہم آمین۔




































