
عریشہ اقبال
گھڑی کی ٹک ٹک سے لے کر موسم کی بدلتی ہوا اور ٹہنی پر کھلتا ہر ایک پھول اُس وقت اپنا محسوس
ہونے لگتا ہے جب دل پر لکھا خط ڈاک کو پہنچا دیا جائے اور انتظار استقبال میں تبدیل ہو جائے۔ یہی کیفیت ہوتی ہے جب ماہِ رمضان رب کی رحمت کا پیغام بن کر ہمارے درمیان مہمان کے طور پر آتا ہے لیکن مہمان کی میزبانی میں اگر کوئی کمی رہ جائےاور وہ بھی دانستہ طور پر، تو یہ اخلاق اور معاشرے کی نگاہ میں نامناسب ہے مگر ذرا سوچیے، اسی معاشرے اور اخلاقیات کے جہان میں پیدا کرنے والا ہمارا رب اپنا خاص نمائندہ ہماری طرف بھیجے اور ہم اس کی موجودگی سے لاعلمی اور عدم دلچسپی ظاہر کر رہے ہوں تو کیا وہ بابِ رحمت ہمارے لیے کھولا جائے گا جس کی امید ہم اپنے رب سے ہمیشہ رکھتے ہیں؟
رمضان کی آمد محض ایک قمری کیلنڈر میں ایک ماہ تبدیل ہو جانے کی حیثیت سے کہیں بڑھ کر ہے، کیونکہ یہ مہینہ ہماری زندگی میں کھویا ہوا پا لینے اور مانگنے کے ساتھ اپنانے کا موقع لاتا ہے۔ ہر خواہش یوں ہی پیدا نہیں ہو جاتی اور نہ ہی یوں ہی اس کی تکمیل ہو جاتی ہے، بلکہ خواہش کا مطلوب اس میں موجود شدت ہوتی ہے اور اس کی تکمیل کا انحصار اس کے اندر پائی جانے والی سچائی پر ہوتا ہے۔ جب میں کسی سے محبت کا دعویٰ کروں اور اس سے دوری اختیار کر لوں، وہ مجھ سے توجہ چاہے تو میں اسے جواب نہ دوں، وہ مجھے اپنی پسند ناپسند بتانا چاہے اور میں حاضر نہ ہوں، اور جب وہ مجھ سے اپنے غم اور خوشیاں بانٹنا چاہے اور میں اسے سننے کے لیے موجود ہی نہ ہوں، تو کیا وہ میرے کیے گئے دعوے پر یقین کر سکے گا؟
جواب بالکل حتمی اور فیصلہ کن ہے کہ نہیں، وہ میرا اعتبار نہیں کرے گا اور ہم سے ناراض ہو جائے گا۔ یہاں ٹھہر کر مجھے اور آپ کو ایک لمحے کے لیے سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی زندگی کے کس کنارے پر کھڑے ہیں اور گزشتہ رمضان ہم نے اس کی موجودگی کا حق کس حد تک ادا کیا۔ ہم رول سموسوں سے لے کر ہر ایک نیا پکوان دسترخوان پر سجانے کو رمضان کا حق ادا کرنا کہہ دیں گے۔ ہم واٹس ایپ اور سوشل میڈیا گروپس، اسٹوریز پر معافی نامے پوسٹ کر دیں گے، جبکہ دل کتنے ہی میلے اور کدورت سے کیوں نہ بھرے ہوں۔ ہم تراویح کے قیام میں کسی طوطے کی طرح الفاظ کو دہراتے جائیں گے، بے شک ان آیات کا ہمارے دلوں کو مسخر کرنا ممکن نہ ہو سکے، جبکہ اس میں موجود تاثیر نے نہ جانے صحابۂ کرام کی زندگی میں کون کون سے بڑے انقلاب پیدا کر دیے اور ان کی زندگی کا پہیہ گھما کر رکھ دیا۔
ہم اپنے رشتے داروں اور قرابت داروں کے گھر کھجور کے پیکٹ اور رمضان باسکٹ بھجوا دیں گےمگر سارا سال ان کے لیے ہر چھوٹی بات پر اپنے دل کے شیشے کو نفرت کی گرد سے آلودہ کرتے رہیں گے۔
لیجیے جناب! میں نے تو تیر برسانا شروع کر دیے، مگر کیا کیا جائے کہ مرض لاعلاج ہو جائے تو ماہرِ امراض بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل کے ساتھ آزادیِ عمل سے بھی نوازا ہے، ورنہ ہم مسلمان اس بات کا بھی موردِ الزام اللہ ہی کو ٹھہراتے کہ وہی توفیق نہیں دیتا، وہ چاہے تو کیا نہیں ہو سکتا۔ بالکل یہ بات بجا ہے کہ وہ چاہے تو کیا ممکن نہیں، مگر انسان کی ہدایت اس کی اپنی طلب پر منحصر ہے، اور اسی طلب پر رب کی رحمت متوجہ ہوتی ہے۔
ہم اگر کسی کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں تو کیا کچھ نہیں کرتے، ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں کہ کسی طرح نگاہِ التفات ہم پر بھی ہو جائے۔ مگر یہ کیسا ایمان اور محبت ہے کہ خدا کے بجائے ہر ایک کے لیے پجاری بننے کو تیار ہے؟
رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں قریب آ لگی ہیں اور رضائے الہیٰ کا پروانہ لے کر اللہ کا پیغام رساں ہمارے دل کے دروازے پر دستک دے رہا ہے کہ دروازہ کھولو اے بندے! میں تمہارے لیے خوشخبری لایا ہوں؛ مغفرت اور نجات کی خوشخبری، دل کی زمین کو آباد کرنے اور روح کو سیراب کرنے کی خوشخبری۔ تم اس ماہ کو یوں ہی ظاہری لبادہ اوڑھ لینے میں ضائع نہ کرنا، بلکہ باطن کی تبدیلی کی جانب رجوع کرنا۔ التجاؤں کے ساتھ رب کے روبرو بیٹھ کر اسے ایسا منا لینا کہ وہ تم پر مہربان ہو کر تمہاری آئندہ زندگی کو اپنی رضا کے مطابق ڈھال دے، تمہارے کردار اور اعمال کو سیاہی سے پاک کر کے اپنا قرب تمہیں عطا کر دے، تاکہ تم اس کی یاد میں موجود سکون کی تلاش پا سکو، تاکہ تم اپنی بگڑی ہوئی بنا سکو اور ہر الجھن کو سلجھا سکو۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں رمضان کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور یہ رمضان ہمارے لیے مغفرت اور رحمت کا دروازہ کھول دے، اور وہ دروازہ کبھی بند نہ ہو۔ آمین یا رب العالمین .




































