
عریشہ اقبال
دسمبر کی کھڑکی سے باہر کی جانب دیکھا تو کئی رنگ آکر جاتے ہوۓ محسوس ہوۓ،کئی نقابوں کو اترتے ہوۓ پایا، کئی چہروں کو بدلتا
دیکھا،مٹی سے بنی زمین پر مٹی سے بنے انسان کو زندہ دفن کرتے ہوۓ دیکھا ،جہاں احساسات کی روشنی بجھ گئی اور وفاؤں کے وعدوں سے بنا گھر ٹوٹ گیا کیونکہ جس گھر کی بنیاد ہی ناپائیدار ہو وہ اپنی جگہ برقرار نہیں رہ سکتا۔۔۔۔
کہتے ہیں کل صرف ایک ہندسہ بدلے گا مگر جس شخص کی سسکیوں کا گواہ صرف اللہ بنا اس کے لیے ہر وابستگی ایک خواب بن گئی اور رب کی ذات ہی حقیقت بن گئی ۔میں حیران ہوں کہ پھر بھی کہا جاتا ہے کہ کل ایک ہندسہ ہی تو بدلنا ہے،مگر پوچھیے ہر اس شخص سے جس نے اپنوں کو اپنائیت کا یقین دلانے کی خاطر اپنے آپ کو ڈھیر بنا دیا مگر نتیجتاً وہ اجنبیت کے حقدار بھی نہ نکلے،اس پگھلتی برف نے محض ہندسہ نہیں معیار بدلا۔
انداز بدلا
زاویہ بدلا
نگاہ بدلی
سوچ بدلی
خیالات بدلے
مگر سوال تو یہی ہے کہ جب سبھی کچھ بدل گیا تو اس تبدیلی کی وجہ حقیقت تھی یا خواب؟ یہ لمحہ میرے اور آپ کے لیے ایک پیغام رساں ہے، ایک ایلچی ہے جو ہمارے رب نے ہماری طرف بھیجا ہے ،وہ یہ پیغام لایا ہے کہ جب کسی کو چاہو تو اس ذات سے بڑھ کر نہ چاہنا، ورنہ توڑ دیے جاؤ گے
جب کسی پر بھروسہ کرو تو بھروسے کے آغاز کو اس کی انتہا سے تبدیل نہ کرلینا۔
جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھاؤ تو خیر کی تقسیم پر عزت نفس یا انا کو غالب نہ آنے دیناکیونکہ تم جو بوتے ہو وہی کاٹتے ہو جو تم کماتے ہو وہی خرچ کرتے ہو،
کہیں ایسا نہ ہو کہ ہندسہ تو بدل جاۓ مگر تمہارا دل نہ بدلے، تمہاری زندگی کا رخ اپنے اصل کی جانب متوجہ نہ ہو،تم شر کو خیر سے بدلتے رہو اور خود کو گھاٹے میں ڈالتے رہو ،جان رکھو ہر ایک اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے مگر تمہارا ظرف، تمہارا رویہ، تمہارا انتخاب تمہاری ذمہ داری ہے کوئی دوسرا اس ذمہ داری کا بار نہیں اٹھا سکتا، لہٰذا ،مایوسیوں کے اندھیروں میں اللہ سے تعلق کی ضیا کو روشن کر لو ،ایک عہد کا خط اس ایلچی کے ہاتھ اپنے رب کے پاس روانہ کر دو کہ معافی کی طلب رکھو گے تو معاف کرنے کا حوصلہ بھی پیدا کرو گے،زیادتی سے بچو گے اور ظلم کا ساتھ نہ دو گے ،ہجرت کرو گے اور حق پر جم جاؤ گے ،بد نگاہی سے حفاظت اس لیے کرو گے کہ یہ پاکیزگی اپنانے سے ملتی ہے۔اسی طرح اصولوں پر چلنے سے ہی فتح مقدر بنتی ہے،میری یہ تحریر ہر اس شخص کے لیے جو ماضی کے غم مستقبل کے خوف،امیدوں کے بوجھ،رویوں کی الجھن ،بے وفائی کے زخم اور ارادوں کے مضمحل ہوجانے سے الجھ سا گیا ہے اور ان ساری الجھنوں کو سلجھانے کے سرے کو اب تک پکڑ نہیں سکا۔
جان لیجیے کہ کفایت کرنے کے لیے آپ کا اور میرا رب کافی ہے اس کی بندگی کا سلیقہ ہی تو ہماری زندگی کا حسن ہے، اگر کوئی چیز اپنا حسن کھو دے تو وہ بدنما ہوجاتی ہے، اب یہ اپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنی زندگی کی ڈور کو الجھاۓ رکھنا چاہتے ہیں یا اس قید سے آزادی چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو سلامتی خیر اور حق کی روشنی عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین




































