
نیرنگ خیال/ عریشہ اقبال
زندگی کی کتاب آزمائشوں اور مشکلات سے عبارت ہے، مگر اس کتاب میں ہر باب کی تقسیم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی استطاعت
اور ان کی بساط کے مطابق کی ہے۔۔۔میں نے اپنی زندگی کے سفر میں بہترین زاد راہ دعاؤں کو پایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دعا کے ذریعے اپنا اور بندے کا رابطہ استوار کیا ہے۔ جب تک اس رابطے کی کڑی جڑی رہتی ہے، اس وقت تک آزمائشوں کی بھٹی آتشِ عشق معلوم ہے، جس میں آپ کا وجود جلنے کے بجائے سلامتی بن جاتا ہےاور دعاؤں کی قبولیت کے وقت اس آتشِ عشق کو گلزار بنا دینے والے وہ آنسو جو آپ جذبات اور احساسات میں موجود خلوص کی گواہی بن جاتے ہیں۔
ہر آنسو اس پیارے رب کی حمد بیان کرتا ہے جو اس آزمائشوں کے سفر میں ہر لمحہ آپ کے ساتھ رہتا ہے، تنہا نہیں چھوڑتا۔۔میں سوچتی ہوں، اللہ تعالیٰ اگر کبھی گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ہمیں نفس کی وادی میں تنہا چھوڑ دیں اور اپنی خواہشات کی غلامی میں بھٹکنے دیں تو ہمارا کیا ہوگا؟
مگر انسان کیوں اس رب کی قدر نہیں کرتا؟
وہ کیوں ہر لمحہ تقدیر کا شکوہ اور غموں کو روتا رہتا ہےجبکہ یہی شکوے شکایات اگر اس کی رحمت کو پکارنے سے تبدیل کر دیے جائیں تو وہ ربِ الودود کا جلوہ دکھانے میں، رحمت کی ٹھنڈی ہوا بھیجنے میں اور صبغتِ اللہ سے رنگنے میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔وہ رب بہت غیرت والا ہے۔ ہم نادان سمجھتے ہیں کہ اللہ قرض رکھتا ہے، حساب کتاب کرتا ہے، مگر ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارے نامہ اعمال میں موجود کتنے ہی گناہ ایسے ہوتے ہیں جن کے متعلق ہم سے بھول چوک ہوجاتی ہے۔
اور اللہ ہمیں یاد نہیں دلاتا کہ: "اے میرے بندے! تم نے فلاں فلاں گناہ کیا تھا، یاد کرو۔"بلکہ اللہ تو ہمیں نوازتا رہتا ہے۔ وہ تو ہماری ٹوٹی پھوٹی دعاؤں کو معجزے کی صورت شاندار قبولیت عطا کرتا ہے۔
یقین جانیے! اگر آپ اس کی راہ میں تکلیفیں اٹھاتے ہیں، زرا سی ٹھوکریں کھاتے ہیں اور جہاں بہت کچھ کہنے کا حق ہو وہاں اپنے لبو کو اس کی رضا کی خاطر سی لیتے ہیں تو وہ آپ کی ریاضتوں اور آپ کی ٹوٹی پھوٹی دعاؤں کو روزے کا درجہ دیتا ہے،جس طرح روزے میں ایک مقررہ مدت تک صبر کرنا ہوتا ہے اور پھر جاکر اذان ہوتے ہی گویا آپ کو اجازت نامہ اور انعام دیا گیا ہو۔
تو یاد رکھیے، آپ زندگی کے جس دور اور آزمائش کے جس باب سے بھی گزر رہے ہیں، اس میں رب آپ کو دیکھ بھی رہا ہے اور سن بھی رہا ہے۔
اس کی جانب متوجہ ہو جائیں، رجوع کرتے رہیں۔وہ پکارنے والوں کی پکار کو بہت قریب سے سنتا ہےاور قبولیت تشتری لیے آپ کا استقبال کر رہی ہوتی ہے۔
اور پھر ہجر کی راتوں اور اداس شاموں کے بعد ایک صبح، ایمان اور روشن صبح آپ کی منتظر ہوتی ہےجہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ یقین کی راہ پر چلنے والوں کا خلوص ضائع نہیں کیا جاتا۔رب کے دربار میں دنیاوی ترازو سے پیمائش نہیں کی جاتی بلکہ وہ تو نیکیوں کو بڑھا کر اس کا اجر دیا جاتا ہے۔ وہ تو غنی ہے اور غنا اس کی شان ہے۔
اللہ ہم سبھی کو اپنی زندگی میں خالص رہنے کی توفیق عطا فرمائےاور ہر اس دل کو سکون کے ساتھ آنکھوں کی ٹھنڈی عطا فرمائے جو بہت عرصے سے امید لگائے بیٹھی ہے کہ قبولیت اس کے دروازے پر دستک دے گی۔آمین یا رب العالمین۔




































