
زین صدیقی
اپنی زندگی میں ہم ہر سطح پر کھانے میں احتیاط نہیں برت رہے ،کہیں دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے
ہیں تو کہیں لوگوں کے ہاتھوں،صحت کی بربادی کااحساس تب ہوتا ہے جب ہمیں شوگر ،دل کا عارضہ یا دیگر وہ امراض لاحق ہوتے ہیں جن میں ڈاکٹر یا تو آپ کی پسنددیدہ چیز نہ کھانے کی ہدایت کرتے ہیں یااس میں کمی کا بتاتے ہیں لیکن چاروناچار آپ یا تو پرہیز کرتے ہیں یا پر ہیز توڑ بیٹھتے ہیں ۔کیوں ایسا کیوں ہے ؟،اللہ نے ہمیں عقل تودی ہے نا ہم کیوں منتظر ہیں کہ ہمیں امراض لاحق ہوں ، یا کیوں غافل ہیں کہ جو کچھ آپ جانتے بوجھتے کھارہے ہیں، وہ آپ کیلئے نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔ شکم پری کیلئے لالچ میں ہرچیز کھا رہے ہوتے ہیں ،پیٹ اللہ کی عطاکردہ مشین ضرور ہے لیکن اس میں سب کچھ انڈیل لینا کسی طور دانشمندی نہیں ۔چینی ،بیکری آئٹم ،تیل ،گھی ،کولڈنگ ،معدہ سے بنی چیزیں ،بڑے کا گوشت ،تلی ہوئی چیزیں ،مرچیں اورنمک یہ وہ سب چیزیں ہیں جو ایک وقت میں آکر انسان کو نقصان پہنچانے والی چیزیں بن کر سامنے آتی ہیں ۔
ہمارے ملک میں صحت کی سہولتیں ہیں نہ ہمیں بتایا جاتا کہ صحت کو کس طرح سے برقراررکھنا ہے ،بس ہم زندگی کو بے لگام گھوڑے کی طرح دوڑا ئے جا رہے ہیں ،جہاں چلی جائے ،بس یہ جانی تو ہے ،موت ہی کی طرف کیوں نہ چلی جائے ۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔ گھنٹوں کھانا کھا کر بیٹھے رہنا ،کبھی دفتر میں ،کبھی گھر میں ،نہ ہمارے گھروں میں چلنے واک کرنے کی جگہ ہے نہ گلی محلوں میں چلنے کا رواج ، موبائل نے مزید ان چیزوں سے ہمیں دور کردیا ۔
ہم عقل بھی رکھتے ہیں ،شعور بھی ،ہم سمجھدار بھی ہیں ،دنیا بھر کے چالاک بھی ،بھر بھی ہم اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں سے ڈبورہے ہیں ۔رات کو لیٹ سونا ،صبح دیر سے اٹھنا ،ہم اپنی صحت اور اللہ نظام سے بھی جنگ کر رہے پھر بھی ہم حقائق سے آنکھیں بند کیے ہو ئے ہیں مگر کب تک ۔۔۔ دل کا دورہ تو پڑنا ہے ،بلڈپریشر تو ہونا ہے ،شوگر خاندان میں سب کو ہے سو مجھے بھی ہونی ہے ،جب مرض آئے گا دیکھ لیں گے ۔ہم اسی سوچ کے ساتھ جی رہی ہے ،نسلوں کی نسلیں دنیا سے چلی گئیں ،ہم لوگوں کو مرتا دیکھ رہے ہیں ،سمجھ بھر بھی نہیں آرہی ۔
ہماری کم عقلی کی وجہ سے ڈاکٹروں کا دھندہ عروج پر ہے ،چھوٹی سی تکلیف لے کر جائیں ، ڈاکٹریکمشت ہزاروں روپے کا دکھ دے دیتے ہیں ،ہزاروں روپے کے ٹیسٹ بتا دیتے ہیں ،ظالم لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ سامنے والا اس قابل ہے بھی یا نہیں ۔جودوائی وہ گلی محلے میں بیٹھ کر لکھ رہے ہیں، حرام ہے وہ کسی دوسرے میڈیکل اسٹور پر مل جائے ۔فری میڈیکل کیمپوں میں بھی یہ کھلواڑ کرتے ہیں ،درد کی تکلیف میں وقتی آرام کی دوائیں دیتے ہیں اور رفوچکر ہوجاتے ہیں ۔داؤں کی کمپنیوں سے دوائیں لکھنے پر مراعات لیتے ہیں ،بیرونی دورے کرتے ہیں ،انسانیت ہی سے کھلواڑ کرتے ہیں ۔سندھ کے کچھ سرکاری صحت کے ادارے قابل تعریف ہیں جن میں سول ہسپتال ،ایس آئی یوٹی ،دارلسکون (کینسر)اورانڈس ہسپتال باقی مت پوچھیں ،جوں جون وقت آگے بڑھ رہا ہے ،ڈاکٹروں کی فیسیں بھی آسمان سے باتیں کررہی ہیں ۔علاج غریب کی پہنچ سے دور ہورہا ہے ،جن سرکاری اداروں میں ڈلیوری فری ہوتی تھی وہاں بھی فیسیں وصول کرنا شروع کردی گئیں ،لوگ جائیں تو کہاں جائیں ۔
دل ،گردے ،پتے ،معدے ،جنرل امراض جس ہسپتال میں جائیں مریضوں کی لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں ،مریضوں کے لواحقین سے گارڈز بدسلوکی کرتے ہیں ،کوئی دیکھنے اور نوٹس لینے والا نہیں ہوتا ،نہ ہی اسپتالوں میں لواحقین کیلئے کوئی بیٹھنے کا خاطر خواہ انتظام ہوتا ہے،بہت سے پرائیویٹ اسپتال بھی لوٹ مارمیں مصروف ہوتے ہیں ۔کئی اسپتالوں کے برا حال اپنی آنکھوں سے دیکھا ،دل بہت افسردہ ہوا ۔
صحت مند زندگی گزارنی ہے تو اپنا بدلو ،ڈاکٹرو ں اور بیماریوں سے بچنا ہے تو واک کو اپنا معمول بنا لو۔اللہ نے متوازن زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے ۔یہ طریقہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کردیں تو اللہ کی کتنی رحمتیں ہوں ہم پر ،عشا کے بعد سوئیں ،فجر کی نماز ادا کریں ،ورزش کریں ،باقاعدگی سے واک کریں ، سخت ٹھنڈا پانی اور کولڈڈرنگ کو خیر باد کہہ دیں ۔ہرچیز معیانہ روی کے ساتھ کھائیں تو آپ دنیا کے ساب سے صحت مند انسان بن سکتے ہیں ،لیکن اس کیلئے آپ کو خود کو بدلنا ہوگا ۔صحت کیلئے صحت بخش کھانا ہوگا ۔



































