
احمد شفیق
میں نے جب بھی کسی بیٹی کو رخصت ہوتے دیکھا، میری نظریں دلہن کے بجائے اس کے باپ ، بھائی کے کانپتے ہاتھوں پر جا رکی۔ وہ ہاتھ جو بیٹی کو تھامے
تھامے بڑا کرتے رہے، آج وہی ہاتھ کسی اور کے حوالے کرتے نظر آئے ۔ وہ دہلیز جسے وہ آخری بار پلٹ کر دیکھتی ہے، جیسے اس پتھر میں بھی گویا اس کی کوئی یاد دفن ہو، یہ محض ایک رسم نہیں، یہ ایک روح کی اپنی اصل سے جدائی ہے۔
بیٹی کی رخصتی صرف ایک چھت سے دوسری چھت منتقل ہونے کا ہی نام نہیں، یہ ایک دھڑکتی روح کی پوری ایک دنیا سے دوسری دنیا میں ہجرت ہے۔ وہ اپنا نام، اپنی پہچان، اپنی آزادی اور اپنا سکون کا گوشہ، سب کچھ محض ایک انسان کے اعتبار اور محبت کے بھروسے پر چھوڑ کر آتی ہے۔ وہ ایک ایسے گھر میں قدم رکھتی ہے ،جہاں ہر چہرہ انجانا ہوتا ہے، ہر رشتہ نیا ہے، ہر مزاج اجنبی ہے۔ یاد رکھیں یہ کوئی عام سمجھوتہ نہیں، یہ انسانی نفسیات کا سب سے نازک اور سب سے کم سمجھا جانے والا مرحلہ ہے، عمومی طور پر ہم لوگ اس چیز کو سمجھنے سے قاصر ہیں؛ جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔
المیہ تب جنم لیتا ہے جب اس کے اس عظیم ایثار کو اس کی مجبوری سمجھ لیا جاتا ہے۔ جب اسے قدم قدم پر فرسودہ روایات کی زنجیریں پہنائی جاتی ہیں، ساس سسر کی جانب سے ہر چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں فیصلہ مسلط کیا جائےاور سب سے بڑھ کر، اپنے ہی خون سے ملنے پر، اپنے ہی میکے جانے پر سخت پہرے لگائے جاتے ہیں تو وہ لڑکی جو خیر خواہ بن کر آئی تھی، اندر سے ٹوٹ کر بکھرنے لگتی ہے۔
یاد رکھیں، یہ ایک نفسیاتی سچ ہے کہ شادی کے ابتدائی سالوں میں لڑکی بار بار اپنے پرانے محفوظ ٹھکانے کی طرف لوٹنا چاہتی ہے۔ وہاں جا کر وہ خود کو سمیٹتی ہے، ماں کے ہاتھ کا کھانا کھاتی ہے، باپ اور بھائیوں کی نظر میں وہ امان ڈھونڈتی ہے جو شاید کہیں اور نہیں ملتی۔ یہ کمزوری نہیں، یہ انسانی فطرت ہے، اس فطرت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ جب وہ نئے گھر میں آئے تو اسے فوراً ہر چیز کا پابند نہ بنایا جائے۔ اسے وقت دیا جائے، سمجھنے کا وقت، ڈھلنے کا وقت، اپنا آپ پہچاننے کا وقت۔ اس سے سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ وہ کیا سوچتی ہے، کیا چاہتی ہے، کس بات سے تکلیف پاتی ہے۔
یہ پہل، یہ اپنائیت، کسی بھی رشتے کی اصل بنیاد ہے اور نئے گھر میں اسے اولین درجے پر رکھنا ہی اس ہجرت کو آسان بنا سکتا ہے، اسے جب دل کرے، جتنے دن کے لیے دل کرے، بلا روک ٹوک میکے جانے کی اجازت دینا، اس کی ذہنی صحت کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا اس کے جسم کے لیے غذا۔ پھر جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، اس کے اپنے بچے ہوتے ہیں، اپنی گرہستی بنتی ہے، تو وہ خود ہی سسرال میں اپنی جڑیں مضبوط کر لیتی ہے۔
ہماری نادانی دیکھیے کہ ہم انہی ابتدائی کٹھن سالوں میں، جب اسے سہارے کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، اس پر پابندیوں کے پہاڑ لاد دیتے ہیں۔ اور یوں اس کے دل میں محبت کی جگہ ایک خاموش نفرت بو دیتے ہیں جو سالوں تک اگتی رہتی ہے۔
یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی پودا نئی مٹی میں لگائے اور اسی لمحے اسے پانی دینا بند کر دے۔ وہ بیچارہ جڑیں پکڑنے سے پہلے ہی مرجھا جائے، تو اس کے دل میں سسرال کیلئے محبت نہیں، ایک خاموش بغاوت جنم لیتی ہے۔ وہ جسمانی طور پر تو اس گھر میں رہتی ہے، مگر اس کی روح ہمیشہ ایک قیدی کی طرح محسوس کرتی ہے۔ اور ہمیں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ایک قیدی کی روح سے کبھی گھر کی رونق نہیں پھوٹتی۔
اس نازک موڑ پر سب سے کڑا امتحان شوہر کا ہوتا ہے۔ وہ دو دنیاؤں کے درمیان ایک پل ہے، اگر مضبوط ہو تو دونوں کنارے آباد رہتے ہیں، ورنہ ہر طرف بکھراؤ۔ اس کا فرض محض روٹی اور مکان مہیا کرنا نہیں، بلکہ اپنی بیوی کا جذباتی اور نفسیاتی محافظ بننا ہے۔ والدین کا احترام ضرور کرے، ان کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑے، مگر لیکن اس احترام کی آڑ میں بیوی کی شخصیت کو مسخ نہ ہونے دے۔ اسے حکمت اور نرمی سے گھر والوں کو یہ اطمینان کرانا ہے کہ جو لڑکی اپنا گھر چھوڑ کر ہمارے گھر آئی ہے، اس کا بھی ایک دل ہے جو دکھتا ہے، اس کی بھی ایک نجی زندگی ہے جس کا اپنا سکون ہے۔ وہ کوئی بے زبان شے نہیں بلکہ حقوق اور احساسات رکھنے والا ایک انسان ہے، اور اس کے وقار کا تحفظ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔



































