
سعدیہ عارف
شادی دو خاندانوں کے درمیان محبت، احترام اور اعتماد کا خوبصورت رشتہ ہوتی ہےمگر افسوس کہ
ہمارے معاشرے میں اس پاکیزہ تعلق کو جہیز جیسی رسم نے بوجھ بنا دیا ہے۔ آج جہیز صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک ایسی لعنت بن چکی ہے جس نے بے شمار غریب خاندانوں کی خوشیاں چھین لی ہیں۔ ہزاروں بیٹیاں صرف اس لیے اپنے گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں کہ ان کے والدین جہیز کا انتظام نہیں کر پاتے۔
ایک غریب باپ ساری زندگی اپنی اولاد کی بہتر پرورش اور دو وقت کی روٹی کے لیے محنت کرتا ہے مگر جب بیٹی کی شادی کا وقت آتا ہے تو اس کے کندھوں پر جہیز کا ایسا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے ،جسے اٹھاتے اٹھاتے وہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ غریب طبقہ اپنے بچوں کی بھوک مٹائے یا لاکھوں روپے کا جہیز جمع کرے؟ کیا ایک انسان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرے یا معاشرے کی ظالمانہ رسموں کا بوجھ اٹھائے؟
آج کتنی ہی لڑکیاں ایسی ہیں جن کے بالوں میں وقت سے پہلے چاندی اتر آئی جن کی آنکھوں میں خواب تو ہیں مگر ان خوابوں کی تعبیر صرف اس لیے ممکن نہیں ہو پائی کیونکہ ان کے والدین جہیز دینے کی طاقت نہیں رکھتے تھے ۔ کتنے ہی گھروں میں بیٹیاں خاموشی سے اپنے نصیب کا انتظار کر رہی ہیں۔ وہ نہ صرف معاشرتی دباؤ برداشت کرتی ہیں بلکہ لوگوں کے تلخ سوالات اور طعنوں کا بھی سامنا کرتی ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ تعلیم یافتہ اور سمجھدار کہلانے والے لوگ بھی جہیز جیسی لعنت کو اپنی عزت اور شان سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ شادی کو تجارت بنا دیتے ہیں، جہاں رشتوں کی قیمت فرنیچر، گاڑیوں اور قیمتی سامان سے لگائی جاتی ہے حالانکہ اسلام نے نکاح کو آسان بنایا ہے، نہ کہ بوجھ۔ بہترین رشتہ وہ ہے جہاں انسان کے اخلاق، کردار اور انسانیت کو اہمیت دی جائے، نہ کہ اس کے لائے ہوئے سامان کو۔
معاشرے کو بدلنے کی ضرورت ہے،ہمیں ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو سادگی سے اور بغیر جہیز کے شادی کرتے ہیں۔ یہی لوگ دراصل انسانیت کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں اور معاشرے کے لیے مثال بنتے ہیں، اگر ہر شخص یہ عہد کر لے کہ وہ جہیز نہیں لے گا تو نہ صرف کئی گھروں کی بیٹیاں اپنے نئے سفر کا آغاز کر سکیں گی بلکہ غریب والدین بھی سکون کی سانس لے سکیں گے۔
جہیز خوشیوں کی ضمانت نہیں بلکہ محبت، احترام اور اچھا اخلاق ہی کامیاب رشتوں کی اصل بنیاد ہیں۔ ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی تاکہ آنے والی نسلیں اس ظالمانہ رسم سے آزاد ہو سکیں کیونکہ بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں، وہ رحمت ہوتی ہیں۔



































