
افروزعنایت
ساجدہ بیٹا تم دروازے پر کس سے باتیں کر رہی تھیں ؟؟
وہ امی سیکنڈ فلور پر جو ریحانہ باجی رہتی ہیں ، ان سے ،بہت محنتی خاتون ہیں ،مجھے تو ان پر ترس آتا ہے ۔ــ
جی بیٹا ریحانہ کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ کسی مزدور سے بھی زیادہ یہ کام کرتی ہے۔ ملازمت ، گھر داری ،اپنے شوہر اور بچوں کی تعلیم و تربیت اور شام کو پڑوس کے کچھ بچے ان کے پاس ٹیوشن پڑھنے بھی جاتے ہیں، نہ جانے یہ عورت یہ سب کچھ کیسے سنبھالتی ہے ، ـ اس بیچاری کو اپنے لئے تو وقت ملتا ہی نہیں ہوگا۔ ـــ
یہ صرف ریحانہ کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے آس پاس بہت سی مائیں اسی طرح اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی نظر آتی ہیں، مجھے تو لگتا ہے ستر فیصد ماؤں کی زندگی اسی طرح گزرتی ہوگی۔ فی زمانہ اس مہنگائی کے دور میں شوہر کے ساتھ ساتھ بیوی کو بھی ملازمت کرنی پڑ رہی ہے ۔تب جا کر گھر کے اخراجات پورے کیے جاسکتے ہیں۔ اس طرح بیچاری ماں کو دہری زمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔
یہ مزدور قسم کی مائیں محنت کشوں کے عالمی دن پر بھی شوہر اور بچوں کے اسکول کی چھٹی ہونے کی وجہ سے ان کی فرمائش پر مختلف ڈشز بنانے میں اور گھر کے دوسرے کاموں میں تمام دن گزار دیتی ہیں: ماشاءاللہ
ایسی ماؤں کو سلام ــ
میں اپنے بچپن کے دور میں نظر دوڑاتی ہوں تو اماں ہم نو بہن بھائیوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ سارے گھر کی زمہ داریاں حسن خوبی اور خوش اسلوبی سے نبھاتی تھیں ــ اسی طرح میں اپنے اطراف ماؤں کی کثیر تعداد کو بھی اسی طرح ہنسی خوشی مشقت سے اپنے فرائض کو انجام دیتے دیکھتی ہوں ــاور سب سے اہم بات یہ کہ انہیں شکوہ کرتے بھی نہیں دیکھا ــ
ماؤں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک دن نہیں بلکہ پورے سال کے دن بھی کم ہیں
لہٰذا ایسی تمام ماؤں کو سلام




































