
لطیف النساء
ان کی عظمت کو سلام کتنی عمارتیں، کتنے پل، کتنے ہسپتال، کالجز، لائبریرز، کھیلوں کے بڑے بڑے اسٹیڈیمز یہ سب انہی کے مرہون منت ہیں اور
سارا دن یہ مزدور کیسے صبح شام تک کام کرتے ہیں اور کتنی بڑی بڑی عمارتیں بن رہی ہوتی ہیں تو صبح ہی صبح کو پتا چل جاتا ہے کہ جب چھت ڈل رہی ہو۔ بیک وقت کئی مزدور ا ٓجاتے ہیں اور کتنی پھرتی سے کام کرتے ہیں ،ایک طرف مکسچر مشین میں تیزی سے مختلف مزدور بجری ریت سیمنٹ لالا کر ڈالتے ہیں تو دوسری طرف لفٹرسے بڑاسا پیالہ آتا ہے مکسچر مشین اس پیالے کو بھر دیتی ہے وہ اوپر چلا جاتاہے۔کوئی بھی منزل ہو، دسویں،بارہویں، اس کی چھت پر کانکریٹ پیسٹ کوا نڈلتاہے تو اس دوران نیچے مزدور بجری سیمنٹ میکسچر میں مسلسل ڈالتے رہتے ہیں ،یہاں تک کہ چھت ڈل جاتی ہے۔
صبح ہی صبح یعنی انہوں نے تقریبا ًساڑھے پانچ چھ بجے سے کام شروع کیا اورچھت ڈال کر 11 بجے تک کا م مکمل کر لیا۔ گرمی سے بچتے ہوئے اللہ بڑی حیرت ہوئی، کتنی جگہوں پر روزانہ ایسے کام مسلسل ہوتے ہی رہتے ہیں، کتنے نام ہیں انکے کام کرواؤ تو معلوم ہوتاہے! مستری،پلمبر، کارپینٹر، رنگ ساز، الیکٹریشن،پلمبر، شٹرینگ کرنے والا،چھت بھرائی والے،پانی والے،دیغ والے، بہر حال مزدور بھائی زندہ باد!انہیں ان کی محنت کا حق پسینہ خشک ہونے سے پہلے مل جانا چاہیے۔ انہیں بھی ایمانداری اور احساس ذمہ داری سے کام کرنا چاہئے، ڈنڈی نہیں مارنی چاہیے ۔
یہ کہاں کہاں سے آتے ہیں؟ گاؤں گوٹھ سے کہیں، گھارو، ساکھرو، اسکردو، تو کوئی ملتان،کوئی خیر پور، ملک کے مختلف علاقوں سے کام کرنے گھرو ں سے دور زیر تعمیر بلڈنگوں میں بغیر دروازوں کھڑکیوں کے سوجاتے ہیں۔ مہینہ دو مہینہ کام کر کے ہفتے دو ہفتے کے لیے واپس گھرچلے جاتے ہیں، ان ہی مکانوں میں یہ لوگ اندر ہی سو جاتے ہیں باہر جو چوکیدار ہوتا ہے وہ تالا لگالیتا ہے جن کے مالکان ہوتے ہیں ان کو چاہیے کہ ان کے ساتھ بہت اچھا سلوک کریں تو وہ مزدور ہیں ،وہ مجبور نہیں، وہ اپنی محنت بیچتے ہیں، اپنی عزت نہیں، ان کی بے عزتی نہ کریں، ان کی تذلیل نہ کریں،ان کے پیشے کو کمتر نہ جانیں، کیونکہ رزق حلال کمانا تو عین عبادت ہے.
ہم عبادت کے لفظ سے بھی ناواقف ہیں کہ اسی عبادت کوکرتے ہوئے بندے کی ہم تذلیل کرتے ہیں, وہ اپنی جان اور محنت مشقت بیچتا ہے تو اس کی جائز کمائی اس کا حق ہے. اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کو اس کی کمائی اس کے ہاتھوں میں مل جانی چاہیے بلکہ خوشی خوشی اس کو اور زیادہ دینا چاہیے تاکہ وہ خوش ہو کر جائے۔
ہمارے معاشرے میں تو یہی بات ہے نا، ہمارا دین بھی ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اپنا ناپ نیچا رکھو، یعنی آپ کا درجن جو ہے 12 کا نہیں 13کا ہونا چاہیے والی بات ہے، تب برکت ہوتی ہے لیکن مجھے سارے مزدوروں سے تو نہیں مگرکچھ ایسے ہیں، لگتا ہے کہ ان کا ایمان کمزور ہے لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو بڑھائے اور ان کو خدا خوفی دے کہ وہ چوریاں کرتے ہیں اور وہ برے واقعات کرتے ہیں بڑے بڑے جرائم میں مبتلا ہو کر بد امنی اور خوف پیدا کرتے ہیں۔ ہمیں بہت افسوس ہوتا ہے چھوٹی چھوٹی چیزوں سے لے کربڑی اشیاء تک لے جانا،،گھروں کو لوٹنا، عزتوں کو لوٹنا اور بچے بچیوں پر بری نظر رکھنا ،یہ سب کبھی نہیں ہونا چاہیے۔
آج تجدید اصلاح کا دن ہے، آج تو آپ کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔ما لکان کوبھی چاہئے ا نکا بہت خیال رکھیں وہ ہمارے ہی بھائی اور محسن ہیں، ہمیں سکھ دیتے ہیں تو جرائم کیوں کریں گے؟ جب انہیں ان کا جائز حق ملتا رہے تو وہ بھی مطمئن ہم اور آپ بھی محفوظ! وہ خود ہمارے اور ایک دوسرے کے مددگار اور محافظ بن جائیں گے ۔ ان شاء اللہ! آپ کی بنائی ہوئی خوبصورت تعمیرات سے زیادو آپ کا حسن اخلاق اور بہترین کردار روشن ہونا چاہیے۔ آپ میرا عظیم محنت کش طبقہ ہو!آپ کے دم سے یہ حسین تعمیرات ہیں۔ اللہ آپ سب کو ایمان کی بہترین حالت میں بہترین صحت کے ساتھ رکھے۔ آمین




































