
روزینہ خورشید
کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مزدور طبقہ اکسیجن کا کام کرتا ہے ،ذرا تصور کریں جو روٹی ہمارے دسترخوان تک پہنچتی ہے ،اس کو
پہنچانے میں کتنے مزدوروں نے اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہوتا ہے ۔کسان مزدور کی صورت میں پہلے بیج بوتا ہے پھر فصل کی دیکھ بھال کرتا ہے، اسے جنگلی جانوروں اور حشرات الارض سے محفوظ رکھنے کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے۔ جب فصل پک کر تیار ہوجاتی ہے تواس کی کٹائی اور گوداموں تک ترسیل کے معاملات بھی مزدوروں کے ذریعے انجام تک پہنچتے ہیں،پھر گوداموں سے اسے فلور ملز تک پہنچایا جاتا ہے جہاں یہ گندم پسائی کے بعد آٹے کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور پھر یہ آٹا دکانوں میں سپلائی ہوتا ہے جہاں سے ہم اسے خرید کر اپنی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
یہ تو صرف ایک مثال ہے حقیقت تو یہ ہے کہ مزدور ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان وہ ملک ہے جہاں چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے بھی بآسانی مزدور دستیاب ہوتے ہیں۔ گھر کے باہر سے کچرا اٹھانا ہو یا درخت کی کٹائی کرانی ہو، چھت ،ٹینک یا گاڑی صاف کروانی ہویا گھر میں رنگ و روغن کا کام کروانا ہو غرض ہر کام کے لیے انسانی وسائل دستیاب ہوتے ہیں جبکہ یورپین ممالک میں ایسا نہیں ،وہاں یہ سارے کام خود اپنے ہاتھوں سے انجام دینے ہوتے ہیں لیکن ہم اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ بجائے ایسے لوگوں کی قدر کرنے کے ان کا جائز حق تک دینے کے روادار نہیں ہوتے۔ یہ تو وہ لوگ ہیں جو باقاعدہ ملازم نہیں ۔۔۔۔رہ گئے ملازمت پیشہ افراد جو کسی نہ کسی ادارے یا کسی فیکٹری سے وابستہ ہوتے ہیں وہاں بھی ان کی حق تلفی دھڑلے سے کی جاتی ہے جس میں سر فہرست وقت پر تنخواہیں ادا نہ کرنا، میڈیکل کی سہولیات فراہم نہ کرنا، اوور ٹائم شمار نہ کرنا، یا پھر ایک عرصے تک انہیں ڈیلی ویجز پر رکھنا عام ہے ۔خوش قسمتی سے اگر کسی کو مستقل کر بھی دیا جائے تو تنخواہ اتنی معمولی رکھی جاتی ہے کہ ملازم پورا مہینہ کھینچ تان کر گزارا کرنے کے بعد آخری دو دن فاقوں میں بسر کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور ذہنی اذیت کا شکار ہو کر کوئی انتہائی قدم اٹھانے سے بھی نہیں چوکتا۔۔۔ان ہی حالات کا ادراک کرتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا تھا۔۔
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
حکومت کو چاہیے تمام فیکٹری مالکان کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ جو سہولیات آئین پاکستان مزدوروں کو فراہم کرتی ہے ،اس پر سختی سے عمل درآمد کریں ۔۔۔ ان کی فلاح و بہبود کے لیے صرف سیمینا راور ریلیوں میں تقاریر کے بجائے ہر سطح پر مناسب اقدامات کیے جائیں تا کہ مزدور بھی اپنے آپ کو باعزت انسان تصور کریں ۔۔۔
۔
ویسے پچھلے چند سالوں سے یہ خوشگوار ماحول دیکھنے میں آرہا ہے کہ مڈل کلاس طبقہ جو خود مہنگائی کا ڈسا ہوا ہے ،اپنی مدد آپ کے تحت مزدوروں ( سبزی اور پھل والے ،کباڑ والے، چپل سلائی کرنے والے ، رات کو مختلف ریسٹورنٹ میں ویٹرز یا گارڈز کی ڈیوٹی انجام دینے والے، کسی بھی طرح کے ڈلیوری بوائز ہوں یا رائڈرز ) کی مدد کی کوشش ضرور کرتا ہے جو بہت ہی خوش آئند بات ہے، اس طرح حلال رزق کمانے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔۔۔ اسلام میں بھی رزق حلال کمانے کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے "الکاسب حبیب اللہ" حلال رزق کمانے والا اللہ کا دوست ہے۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا
"مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو "
اس حدیث سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مزدور کی اجرت وقت پر دینے کی کتنی اہمیت ہے ۔یوم مئی کی ابتدا تو 1886 میں ہوئی لیکن درحقیقت آج سے 1400 سال پہلے ہی ہمارے نبی مکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بتا گئے کہ مزدور کا پسینہ ہی دراصل کسی بھی معاشرے کی ترقی کا ایندھن بنتا ہے۔۔




































