
صبا احمد
پانی،بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے مارے عوام کیا کھائیں ؟کیاپئیں ! اور کیسے جئیں ،مہنگائی کے وقتاً فوقتاً لگتے جھٹکوں نے عوام کی آکسیجن لیول یعنی
کم کردیا ہے ۔کراچی کچرے کا ڈھیر، ٹوٹی سڑکوں نے کمر درد اور فزیو تھراپسٹ کی چاندنی کردی ہے ۔آئے دن پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے جبکہ ایران اور امریکاجنگ میں بین الاقوامی منڈی میں اتنے زیادہ پرائز نہیں بڑھے جتنے پاکستان میں حکومت نے بڑھا دیے ہیں ۔ ۔
ذرائع امدورفت مہنگے ہورہے تو مہنگائی میں اضافہ کاروباری ضرورت بنادیا گیا ہے ۔۔۔تاجر حضرات بھی قیمتوں کے اضافے پرمجبور ہو جاتے ہیں ۔
عوام بلبلا رہے ہیں ،مہنگائی کے سبب بچے تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں، دیہاڑی دار مزدور کیسے اپناچولہا جلائے گا اور بچے کو پڑھائے گا ،پاکستان میں چائلڈ لیبر بڑھ رہی ہے ۔خواتین گھریلو اخراجات کیسے پورے کریں، مرد کہاں سے کما کر لائیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، حکومت کو عوام کے مسائل کا سوچنا چاہیے ۔
۔
ٹائر پنگچر کی دکان پر رش رہتا ہے ۔عوام خستہ حال ہے ،خالی جیبیں بھی کٹ رہی ہیں ۔ڈکیت اور جیب کرتے بھی بے روزگار ی کے سبب لوٹ مار کر رہے ہیں ۔نوجوانوں کی طرح ٹریفک کے رش نے بھی لوگوں کو پریشان کیا ہواہے ۔بیویوں کے لیے گھریلو حالات مایوس کن ہیں۔۔۔۔۔ بقرعید کے جانور مہنگے ہیں، عوام کی رینج میں نہ گائے ہے نہ بکرا ۔۔۔۔۔۔۔۔ٹرمپ کا چائنا کا دورہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر بھاری ضرب لگانے کےپیش قدمی ہے۔ فلسطین کےلیے ہم کیا بائیکاٹ کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ضروری ہے ۔



































