
سعدیہ عارف
حج اسلام کا پانچواں رکن ہے جو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض کیا گیا ہے۔
یہ صرف عبادت نہیں بلکہ محبت، قربانی، صبر، اتحاد اور اللہ تعالیٰ کی بندگی کا عظیم درس ہے۔ دنیا کے کونے کونے سے لاکھوں مسلمان ایک ہی لباس میں، ایک ہی آواز کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوتے ہیں۔ اس منظر میں نہ کوئی امیر ہوتا ہے نہ غریب، نہ کوئی بڑا نہ چھوٹا، سب اللہ کے بندے بن کر اس کی رحمت طلب کرتے ہیں۔
حج انسان کو اخلاص، عاجزی اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے۔ احرام باندھتے ہی انسان دنیاوی غرور، دکھاوے اور فرقوں سے نکل کر سادگی اختیار کر لیتا ہے۔ خانۂ کعبہ کا طواف دل کو ایک عجیب سکون عطا کرتا ہے جبکہ صفا و مروہ کی سعی حضرت ہاجرہؑ کی قربانی اور اللہ پر کامل یقین کی یاد دلاتی ہے۔
میدانِ عرفات میں لاکھوں انسان جب ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قیامت کا منظر ہو، جہاں ہر شخص اپنے گناہوں کی معافی اور اللہ کی رضا کا طلب گار ہے۔ یہی حج کا اصل پیغام ہے کہ انسان اپنے رب کے قریب ہو جائے، اپنے دل کو پاک کرے اور ایک نئی زندگی کا آغاز کرے۔
حج ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اسلام امن، محبت اور مساوات کا دین ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان رنگ، نسل اور زبان کے فرق بھلا کر ایک امت بن جاتے ہیں۔ یہی اتحاد امتِ مسلمہ کی اصل طاقت ہے۔آج کے دور میں ہمیں حج کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی ضرورت ہے۔ صرف عبادات ہی نہیں بلکہ اخلاق، سچائی، صبر، دوسروں کے حقوق اور انسانیت کی خدمت کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ کیونکہ اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر لے۔
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو حج کی سعادت نصیب فرمائے اور اس مقدس عبادت کی برکتوں سے ہمارے دلوں کو منور کرے۔ آمین۔



































