
عائشہ بی
اس وقت کراچی شہر ہر لحاظ سے ڈاکوؤں کے نرغے میں ہے ۔۔۔
کراچی کے شہریوں کو روزمرہ زندگی گزار نے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔۔۔
اسٹریٹ کرائم دن بڑھتا جارہا ہے۔۔ موبائل فون، نقدی اور موٹر سائیکل چھیننا عام ہو چکا ہے،خواتین نہ زیور پہن سکتی ہیں اور نا ہی پرس پکڑ کر گھر سے باہر جا سکتی ہیں ، کراچی کو لاوارث بنادیا گیا ہے۔حکومت ناہونے کی برابر ہے۔عوام کا کوئی خیال رکھنے والا نہیں ۔ ایسی حکومت کا کوئی فائدہ نہیں جو عوام کو تحفظ فراہم نہ کر سکے۔۔
کراچی کے بعض علاقوں میں کاروباری افراد، بچوں اور نوجوانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔کراچی میں نشے کا کاروبار عام ہوگیا ہیں۔پولیس کے سامنے یہ کاروبار چلتا ہے۔ کراچی میں مختلف مقامات پر پولیس اسٹیشن کے نزدیک بھی نشہ کھلے عام فروخت ہوتا ہے۔ لکتا ہے کہ یہ کام پولیس کی سرپرستی میں ہوتا ہے تب ہی اسے روکنے کے اقدامات نظر نہیں آتے جبکہ ملزمان کی گرفتاری اور سزا کی شرح انتہائی کم ہے، جس کی وجہ سے سے جرائم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
بے روزگاری اور مہنگائی بھی جرائم میں اضافے کا سبب ہے۔ہمارے حکمرانوں کو عوام سے کوئی دلچسپی نہیں کہ کوئی جیے یا مرے،کراچی کے شہریوں کو تحفظ دینے اور تمام مسائل کا حل کے لیےجماعت اسلامی پاکستان کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔
یہ دیس جگ مگا ئےگا
نور لاالہ سے۔۔۔۔۔۔
ان شاءاللہ





































