
امبرین معیز
کسی بھی ملک کو چلانے کے لیے افرادی قوت اس کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ افراد جو ریاست کے انتظام کو
چلاتے ہیں، وہ حکومتی سطح کے افراد ہوتے ہیں اور جو لوگ روزمرہ زندگی کو چلاتے ہیں، جیسے صنعتیں، فیکٹریاں، کاروبار، مارکیٹس، کاشتکاری اور زراعت کا انتظام سنبھالتے ہیں، درحقیقت یہی لوگ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر سال یکم مئی کو یومِ مزدور منایا جاتا ہے۔ سب سے پہلے یومِ مزدور 1886ء میں امریکہ میں منایا گیا۔
سال تو سارا ہی گمنامی میں کٹ جاتا ہے
بس یکم مئی کو لگتا ہے کہ مشہور ہوں میں
ترقی یافتہ ممالک نے اپنے مزدوروں کے کام کرنے کا طریقۂ کار، ان کے اوقاتِ کار، ہر گھنٹے کے حساب سے آمدنی، کام کرنے کا ماحول اور ان کی صحت کا خیال رکھا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کے افراد کام کرنے کے لیے یورپ، امریکہ اور کینیڈا کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنے خاندانوں کے ساتھ وہاں منتقل ہو جاتے ہیں اور آسودہ زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جبکہ ترقی پذیر ممالک میں کام کرنے کے اوقات زیادہ، مزدور کی تنخواہ کم، مراعات نہ ہونے کے برابر، دورانِ کام بیمار ہونے کی صورت میں چھٹی نہ دینا اور ہتک آمیز سلوک—ان سب نے مزدور کو پریشان کر رکھا ہے۔ کم آمدنی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور صحت کے مسائل نے مزدور کو احساسِ کمتری، ناکامی، ذہنی امراض اور یہاں تک کہ خودکشی پر مجبور کر دیا ہے۔
ہمارے ملک پاکستان کو اللہ نے قدرتی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے۔ اگر ذرا سی توجہ دی جائے تو ملک میں صنعتیں لگانا اور چلانا کچھ مشکل نہیں۔ زراعت کے شعبے کو ہی دیکھ لیجیے، اگر کاشت کار اور ہاری کے مسائل کو حل کر دیا جائے تو ملک کو پیاز اور ٹماٹر درآمد کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ کپڑے کی صنعت اور دیگر صنعتوں میں ترقی دی جائے تو کاروباری افراد کو باہر سے چیزیں درآمد کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور لوگ اپنے کاروبار ملک سے باہر منتقل نہیں کریں گے،اگر افراد کو روزگار ملے گا تو بے روزگاری جیسے مسائل سے کم از کم لوگوں کے چولہے تو نہیں بجھیں گے۔
آج کا دور انٹرنیٹ اور میڈیا کا دور ہے، اگر حکومت لوگوں کو اس حوالے سے روزگار فراہم کرے تو آئی ٹی کا میدان روزگار کے ساتھ ساتھ قومی آمدنی میں اضافے کا سبب بنے گا، اور ملکی سطح پر بے چینی، بے روزگاری اور معاشی ناہمواری پر قابو پایا جا سکتا ہے،جس تیزی سے ہمارے ملک کا نوجوان روزگار کے سلسلے میں باہر جا رہا ہے، اس میں کمی آئے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے افراد کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں، جہاں افراد کو کام کرنے کی تربیت دی جائے اور مزدور کا معاشی استحصال بند کیا جائے۔
اس کی مزدوری وقت پر دی جائے اور تنخواہ میں اتنا اضافہ ہو کہ کم از کم اس کا گھر چل سکے، تو ایک دن یہی مزدور ہمارے ملک کو پسماندہ سے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کروا دے گا۔




































