ستائیسویں آئینی ترمیم غیر آئینی اور غیر شرعی ہے،مستردکرتے ہیں:حافظ نعیم الرحمن

 کراچی (ویب ڈیسک ،فوٹو فائل ) امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کراچی پریس کلب کی دعوت پر “میٹ دی

پریس” سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے، ان پر گفتگو اور حل دونوں ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 25 کروڑ عوام کے حالات بہتر بنانے کے بجائے حکمران اپنے مفادات کے تحفظ میں لگے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم غیر آئینی اور غیر شرعی ہے، جماعتِ اسلامی اسے کلیتاً مسترد کرتی ہے۔ ان کے مطابق ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو اقلیت اور حکومت کو اکثریت میں بدل دیا گیا، جس سے ججوں کے تبادلے من مانی طریقے سے کیے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ “فیلڈ مارشل اور صدر کو عدالت سے بری کیوں کیا جائے؟ اللہ کے رسول ﷺ اور خلفائے راشدینؓ عوام کے سامنے احتساب کے لیے پیش ہوتے تھے۔”

انہوں نے کہا کہ جو پارٹیاں خود کو جمہوری کہتی ہیں، وہ دراصل آمروں کی گودوں میں پلی ہیں۔ ملک کی تقسیم بھی انہی جماعتوں کے رویوں کا نتیجہ تھی جنہوں نے عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی اختیارات پر قبضہ ان جماعتوں کی روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کو دو سال قبل مئیر شپ کے الیکشن میں مینڈیٹ ملا مگر سیٹوں پر قبضہ کیا گیا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سندھ میں تعلیم کا بجٹ 613 ارب روپے ہونے کے باوجود سرکاری اسکول تباہ حال ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “کیا بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں پڑھا سکتے ہیں؟” ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں 49 ہزار اسکولوں کو ملا کر کم کردیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جماعتِ اسلامی نے “بنو قابل” پروگرام کے ذریعے پورے ملک میں نوجوانوں کے لیے مفت آئی ٹی کورسز شروع کیے ہیں، جس میں 12 لاکھ افراد رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔

افغانستان اور کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل جنگ نہیں، بامعنی مذاکرات ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کو برادرانہ تعلقات کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہئیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کا اصل مسئلہ ہے مگر حکمران ذاتی مفادات میں الجھے ہوئے ہیں۔

عمران خان کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کرپشن کے الزام میں گرفتار ہیں تو آصف زرداری کو بھی اسی کمرے میں ہونا چاہیے۔ حافظ نعیم نے کہا کہ باجوہ کی ذہنیت نے ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ نظام کو بدل دیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی 21 تا 23 نومبر کو مینارِ پاکستان لاہور میں “اجتماع عام” منعقد ہوگا۔

اس موقع پر امیر جماعتِ اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ، امیر کراچی منعم ظفر خان، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری، سینئر ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات صہیب احمد اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔