
اسلام آباد(ویب ڈیسک )وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ’پاکستان کویمن تنازع میں جھونکنے کی کوشش یا
سازش نہیں کی جارہی، بدقسمتی سے اچھے کام کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال پروزیر خارجہ نے کہا کہ ’اگر کسی کو تشویش ہے اسے ذہن اور دل سے نکال دے‘۔
شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ’ایران خود مختار ملک ہے اور اس کو اسلامی فوجی اتحاد میں شمولیت کے لیے پاکستان کی وکالت کی ضرورت نہیں ہے‘۔
پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ کے ہمراہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد بھی موجود تھے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ 8 مفاہمت کی یادداشتوں پردستخط ہوں گے تاہم دونوں ممالک کے مابین اقتصادی تعاون اور یادداشتوں پر عملی اقدامات کے لیے ’کوآرڈینشین کونسل‘ تشکیل دی جائے گی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب میں کونسل کی سربراہی خود ولی عہد محمد بن سلمان کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سعودی عرب کی جانب سے اتنا بڑا وفد پہنچ رہا ہے جس میں وزارتوں کے حکام سمیت سعودی کمپنیوں کے سربراہان بھی شامل ہوں گے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کےساتھ تعلقات نئےدورمیں داخل ہورہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کی ذاتی کاوشوں سےدوطرفہ تعلقات میں خوشگوارتبدیل آئی۔
شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ خوشگوارتبدیلی کاعملی مظاہرہ 16اور17فروری کودکھائی دےگا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نےمشکل وقت میں پاکستان کی کھل کرمدد کی اور 30سال بعد ریاض نےوزیراعظم عمران خان کواسٹیٹ وزٹ دیا۔














