موسم گرما تک تمام وزارتوں کو ای گورننس پر لانے کی ڈیڈ لائن

اسلام آباد(ویب ڈیسک ،فوٹو فائل ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تبدیلی کے راستے میںا

سٹیٹس کو سے چپکے لوگ رکاوٹ ہیں، رشوت اور کرپشن والے ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتے، آنے والے موسم گرما تک تمام وزارتوں کو ای گورننس پر لانے کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے، ایف بی آر کے نظام کو جولائی تک مکمل ڈیجیٹلائز کر دیا جائے گا، جہاں قیادت کرپٹ ہو جائے تو معاشرے میں بدعنوانی کو برائی نہیں سمجھا جاتا، پاکستان میں اشرافیہ کا رہن سہن کا طریقہ دیکھ کر نہیں لگتا کہ یہ غریب ملک کے شہری ہیں۔ بدھ کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تحت ای بڈنگ، ای بلنگ اور جی آئی ایس میپنگ کے آغاز کی تقریب سے وزیراعظم عمران خان بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ تقریب سے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید اور سیکرٹری نے بھی خطاب کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب میں این ایچ اے اور وزارت مواصلات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک ڈیجیٹلائزیشن کی طرف جا رہا ہے اور یہی نیا پاکستان ہے، دنیا ڈیجیٹلائزیشن کی جانب جا رہی ہے، مستقبل اسی کا ہے، اس سے شفافیت آئے گی، جی آئی ایس سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مانیٹرنگ ہو سکے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ای بڈنگ اور ای بلنگ سے ٹھیکوں میں کرپشن کا خاتمہ ہو گا، جس طرح طے شدہ طریقہ کار کے تحت ٹھیکے دیئے جاتے تھے اس سے نہ صرف ملک کا نقصان ہوتا تھا بلکہ سڑکیں بھی غیر معیاری بنتی تھیں، کمیشن لیا جاتا تھا، اب اس نظام سے جتنی شفافیت آئے گی اتنی ہی کرپشن کم ہو گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ جہاں بھی انسانی کردار کم ہو گا وہاں پر رشوت کے مواقع بھی کم ہوں گے، ہمارے موجودہ سسٹم میں رشوت جڑوں تک دھنس گئی ہے، ڈیجیٹلائزیشن کا اقدام اسے شکست دے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے 20 سال پہلے شوکت خانم ہسپتال کو کاغذ سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا، دوائیوں کی خرید و فروخت آن لائن تھی اس کیلئے ہم نے سافٹ ویئر بنایا، اس سے کرپشن ختم ہوئی اور پیسہ بنانا ناممکن ہو گیا، دنیا میں 20 سال قبل یہ نظام آ چکے ہیں تاہم افسوس ہے کہ پاکستان 2021میں اس جانب جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پرانے نظام سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے اس تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ہیں، سٹیٹس کو بدلنا ہی تبدیلی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خودکار نظام سے دنیا نے فائدہ اٹھایا، کرپشن کے نظام کی وجہ سے ہمارے ملک اور دیگر اداروں میں یہ نظام نہیں آ سکا۔ انہوں نے شرکاکو بتایا کہ شوکت خانم میں ایک ادارے نے کچھ مریضوں کے علاج کیلئے مالی معاونت کی تو سرکاری ادارے نے ان کے چیک کلیئر کرنے پر کمیشن طلب کیا، یہ ہماری بدقسمتی ہے۔