
لاہور(ویب ڈیسک )قومی احتساب بیورو (نیب)کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)نے شریف خاندان کی ملکیتی
ملز کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ ایف آئی اے نے العریبیہ، رمضان، شریف فیڈ اور ڈیری ملز کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں، جبکہ ایف آئی اے نے حمزہ شہباز کا جیل میں بیان ریکارڈ کرنے کے لیے احتساب عدالت سے رجوع کیا۔احتساب عدالت نے ایف آئی اے کو حمزہ شہباز کا جیل میں بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت دے دی۔
واضح رہے کہ حمزہ شہباز کوٹ لکھپت جیل میں ہیں ، انہیں نیب نے مختلف مقدمات میں گرفتار کر رکھا ہے جبکہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف پر بھی نیب میں مقدمات چل رہے ہیں تاہم وہ ضمانت پر ہیں۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف فیملی منی لانڈرنگ ریفرنس میں نیب کی خصوصی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ، نیب لاہورنے منی لانڈرنگ ریفرنس کے لیے 2 رکنی خصوصی ٹیم تشکیل دی۔
ٹیم ا سپیشل پراسیکیوٹر نیب بیرسٹر عثمان جی راشد کی سربراہی میں تشکیل دی گئی جبکہ نیب پراسیکیوٹرعاصم ممتازپراسیکیوشن ٹیم کاحصہ ہوں گے۔ پراسیکیوشن ٹیم شہبازشریف فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس میں پیش ہو گی۔














