غربت کے ستائے یہ لوگ

تصویر کہاںی /صباحت شمیم

پاکستان  کواسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے،یہ بڑےاعزازکی بات ہے ۔اس اعتبارسے یہاں کاریاستی نظام سیدناعمر بن خطاب رضہ جیسا ہونا چاہیےتھا ،لیکن افسوس

کہ پاکستان کے اسلامی مملکت ہونےکے باوجود بھی یہاں کا نظام انتہائی بدتر ہے ۔مہنگائی ،کرپشن اور ناانصافی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ غریب عوام کے پاس بھیک مانگنے کے سوا کوئی راستہ نہیں اور وہ غریب طبقہ جن کا ضمیردوسروں سےمانگنا گوارہ نہیں کرتا تو وہ اسی طرح اپنی ضرورت کو پورا کرتے ہیں ۔

زیر نظر تصویرپاکستان کےشہر پنجاب فیصل آباد کی سبزی منڈی کی ہےجہاں ایک غریب عورت غربت اورافلاس کی وجہ سےمنڈی میں پیازکےآڑھتیوں کی   جانب سے کچرے کے طور پر بھینکے گئے پیازکے چھلکوں میں سے اپنے لئے پیاز چن رہی ہے۔

 ملک کی بڑھتی ہوئی مہنگائی نےہردوسرےانسان کی کمرتوڑ دی ہے۔یہ تصویر ہمارے ملک کے حکمرانوں کے لئے باعث شرم ہے کہ ان کی دورِ میں ان کی رعایا بھوک اورمہنگائی کی وجہ سے اس مقام پر آگئی ہےکہ کچرے کے ڈھیر سے کھانےکے لیے اشیاء تلاش کررہی ہے تاکہ اپنے بچوں کی بھوک مٹآسکے۔

یہ تصویر بذاتِ خود چیخ چیخ کر ہمارے حکمرانوں سےسوال کررہی ہے کہ کیا یہی ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان ؟؟؟؟ کیا یہی ہے انصاف ؟؟؟؟ کیا تم نے سنا نہیں عمر بن خطاب رضہ کا وہ قصہ کہ وہ کس طرح اپنی دورِ خلافت میں بھیس بدل کر گلیوں میں گشت کیا کرتے تھے تاکہ ان کی حکومت میں کوئی ایک فرد بھی بھوکا نہ سوئے۔یقیناً حکمرانوں کو اللہ کے یہاں اس کا جواب دینا ہوگا ۔