پی پی نیب کا مقابلہ کرے گی ،آصف زرداری،آغا سراج درانی کی گرفتاری کی مذمت

اسلام آباد ( ویب ڈیسک )پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے

سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی قومی احتساب بیورو (نیب) کا مقابلہ کرے گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نابالغ حکومت کو یہ حالات سمجھ نہیں آرہے اور کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ بیک سیٹ ڈرائیور کو سیاست سمجھ نہیں آرہی۔

سابق صدر نے آغا سراج درانی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلے بھی جیل جا چکا ہوں اور جیل میرے لیے دوسرا گھر ہے، اس سے ڈرنے والے نہیں۔

انہوں نے حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ رواں سال گرمی میں بجلی کا بل گاڑی بیچ کر دینا پڑے گا۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ہر دور میں پیپلز پارٹی کو اپنوں نے ہی دغا دیا، ہمارے رہنماؤں کی گرفتاریاں کوئی نئی بات نہیں۔

انہوں نے کسی کی نشاندہی کیے بغیر کہا کہ بلاول بھٹو، بے نظیر بھٹو کا بیٹا ہے تم اس کو کیا ڈراؤ گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں یہ سیکھیں اورکام کریں، ایسا نہیں ہے کہ ہم طاقت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، ہم چاہتے تھے موجودہ حکومت چلے اور لوگوں کے مسائل حل کرے۔

ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے قدم کے ساتھ قدم بڑھائیں گے، اگر حکومت دعوت دیتی تو سعودی ولی عہد سے ملاقات کے لیے ضرور جاتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی ایسے رویوں کا سامنا کیا اور آئندہ بھی کریں گے، ہر قانون قابل ترمیم ہوتا ہے۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اسپیکر کو گرفتار کرکے جمہوریت کو چیلنج کیا جارہا ہے، آغا سراج درانی کو اسلام آباد سے کیوں گرفتار کیا گیا؟ اسپیکر سندھ اسمبلی اجلاس میں آرہے تھے چھپ کر نہیں بیٹھے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف احتجاج عوامی مسائل پر کریں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ضمانت منظور ہونے پر شہباز شریف کو مبارک باد دیتا ہوں۔

پی پی پی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے، ہنگامی حالات میں کشمیر کی صورتحال اہم ہے۔

آصف علی زرداری نے پلوامہ حملے کے بعد کی صورت حال پر کہا کہ بھارت نے جارحیت کی تو فوج کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

سابق صدر نے اپنے دور حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو عالمی سطح پر بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ہم ہمسایوں کے ساتھ سیاسی حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس سے قبل پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا تھا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی گرفتاری ناقابل قبول ہے۔

 

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بے نامی وزیراعظم کو بے وردی آمریت قائم کرنے نہیں دیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت کو ہٹانے کی غیرجمہوری کوشش پہلے بھی ناکام ہوئی اب بھی ناکام ہوں گی۔