کراچی:مضرصحت کھانے سے جاں بحق بچوں کی نماز جنازہ ادا

 کراچی میں مبینہ مضرِ صحت کھانا کھانے سے جاں بحق ہونے والے پانچ بچوں کی نمازِ جنازہ پشین کے علاقے

خانوزئی میں ادا کر دی گئی، تاہم دوران علاج اسپتال میں دم توڑنے والی بچوں کی پھپھی کی نمازِ جنازہ بعد میں ادا کی جائے گئی۔

اہلخانہ کے مطابق بچوں کی پھپھی (بینا بدرالدین) کا انتقال صبح 5 بجے ہوا تھا جس کے بعد میت کو صبح 7 بجے گاؤں روانہ کیا گیا، بچوں کی تدفین مقامی قبرستان میں کی گئی۔

جنازے میں قبائلی عمائدین، سیاسی شخصیات اور لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ سیاسی شخصیات میں صوبائی وزیر برائے زراعت اور کوآپریٹیو زمرک خان اچکزئی، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکنیشن ملک نعیم خان بازائی، مبین خان خلجی اور دیگر شریک تھے۔ خانوزئی تحصیل میں بازار دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں۔

ضلع پشین سے تعلق رکھنے والی فیملی جمعرات 21 فروری کی شب کراچی پہنچی تھی۔ فیملے نے صدر کے ایک گیسٹ ہاؤس میں قیام کے دوران مقامی ریسٹورنٹ سے کھانا منگوایا جس کو کھانے کے بعد بچوں سمیت انکی 28 سالہ پھپھی کی حالت بھی بگڑ گئی تھی۔

گزشتہ روز ترجمان آغاز خان اسپتال نے بتایا تھا کہ تمام افراد کی ہلاکت مضرِ صحت کھانا کھانے سے ہوئی، متاثرہ افراد کو رات گئے اسپتال لایا گیا تھا مگر کوئی بھی بچ نہ سکا جبکہ خاتون کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔ تاہم اسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ایم ایل او کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی وجہ سامنے آئے گی۔