
کراچی (ویب ڈیسک )نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی کے خلاف تفتیش کا دائرہ وسیع کردیا۔ گرفتار آغاز سراج درانی
کے قریبی ساتھی گلزار احمد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نیب کے مطابق بلدیاتی وزارت کے دوران غیر قانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات ہوگی، جب کہ سندھ اسمبلی فنڈز، غیر قانونی بھرتیوں کی بھی تحقیقات کی جائے گی۔
نیب کے مطابق سراج درانی کے چند ملازمین کو بھی گرفتار کرکے شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن کے ذریعے کروڑوں کی کرپشن ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب ) حکام نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو 20 فروری کو اسلام آباد میں ہوٹل سے گرفتار کیا تھا۔ جس کے بعد انہیں3 روزہ راہداری ریمانڈ کیلئے عدالت میں پیش کیا گیا۔
آغا سراج درانی کو سندھ میں آمدن سے زیادہ اثاثے ،غیر قانونی بھرتیوں اور سندھ اسمبلی کی نئی عمارت میں تعمیر کے دوران گھپلوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
آغا سراج درانی کی گرفتاری پر پی ٹی آئی نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی گرفتاری کے بعد عہدہ چھوڑ دیں۔ پی ٹی آئی ارکان کا کہنا تھا کہ کیوں کہ الزامات کی نوعیت سنگین ہے اس لئے تحقیقات ہونے تک آغا سراج درانی عہدہ چھوڑ دیں اور اسپیکر سندھ اسمبلی رہنے کا اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا۔ انھوں نے تحقیقات غیر جانبدار اورشفاف ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔














