نیوزی لینڈ: بائیکر گینگز نے مساجد کی حفاظت کا اعلان کردیا

ویلنگٹن(رنگ نوڈاٹ کام)گذشتہ جمعے کو کرائسٹ چرچ شہر کی دو مساجد میں سفید فام نسل پرست کےہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کے عظیم سانحے 

کے بعد نیوزی لینڈ میں سماج کے مختلف حصوں اور افراد کی جانب سے اسلام اورمقامی مسلمانوں کی حمایت اور تعاون میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ نیوزی لینڈ میں سرکاری سطح پر آج یوم جمعہ منایا جارہا ہے۔دوسری جانب 

نیوزی لینڈ میں ہیوی موٹر سائکلیں چلانے والے گروپوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعہ کی نماز کے دوران مساجد کے باہر پہرہ دیں گے۔ان گروپوں کو عرف عام میں ’’ بائیکر گینگز‘‘ کہاجاتا ہے۔ مونگریل موب، کنگ کوبرا اور دی بلیک پاور نامی گروہوں کا کہنا ہے وہ ملک بھر میں مقامی مسلمان برادریوں کی مدد اور تحفظ کریں گے۔مونگریل موب گینگ کے صدر سونی فیٹو نے کہا کہ وہ ہیملٹن شہر کی جامع مسجد کی حفاظت انجام دیں گے۔

خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہناتھا کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی اس وقت تک مدد کریں گے جب تک وہ چاہیں گے،بلاشبہ ہم ان کی حفاظت کے لیےنماز جمعہ کے موقع پر موجود ہوں گے، ہم اس موقع کے لئے مناسب لباس پہنیں گے،ہم مسلح نہیں ہوں گے، لیکن ہم کمیونٹی کے دیگر لوگوں کے ہمراہ مسجد پر پہرہ دیں گے تاکہ نمازیوں کو تحفظ کا احساس ہو۔نیوزی لینڈ کے ایک اوربائیکرز گینگ’’کنگ کوبرا‘‘ کے ارکان نے بھی پون سونبی کی مرکزی مسجد میں جاکرمسلمانوں سے اظہاریکجہتی اور کرائسٹ چرچ سانحے پر دکھ کا اظہار کیا اور مرنے والوں کے لیے دعا کی۔ کیوی بائیکرز کے گینگ دوسرے شہروں میں بھی مساجد کے ساتھ یکجہتی کے لیے کام کر رہے ہیں۔  جبکہ آسٹریلیا میں قائم ایک بائیکر گینگ کے ارکان بھی سڈنی کی ایک مسجد کے آس پاس حفاظت کیلئے گشت کر رہے ہیں۔