
لاہور(ویب ڈیسک )قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم آمدن سے زائد اثاثے اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب
اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر لاہور کی رہائش گاہ پہنچ گئی۔
نیب کی ٹیم نے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی رہائش گاہ 96 ایچ پر پہنچی ہے، جہاں اسے گھر کے اندر داخل ہونے پر ایک مرتبہ پھر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
احتساب کے ادارے کی دوسری کارروائی کے دوران پولیس کی بھاری نفری بھی ان کے ہمراہ موجود ہے اور انہوں نے شہباز شریف کی رہائش گاہ کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ نیب ذرائع کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر آئے ہیں اور گزشتہ روز کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے پولیس کی نفری بھی ساتھ لائی گئی ہے۔
ادھر نیب ٹیم کے چھاپے کی اطلاع ملتے ہی مسلم لیگ (ن) کے کارکنان رہائش گاہ پہنچنا شروع ہوگئے ہیں تاہم آج پولیس کی بڑی تعداد موجود ہیں جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پولیس کی مزید نفری بھی طلب کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز کی کارروائی کے دوران لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد شہباز شریف کی رہائش گاہ پہنچ گئی تھی اور نیب کی ٹیم کی گاڑیوں کو روکنے کی بھی کوشش کی تھی جبکہ کچھ کارکنان نے احتجاجاً دھرنا بھی دیا تھا۔تاہم شہباز شریف کی رہائش گاہ آنے والی نیب ٹیم کے ایک رکن نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری کے وارنٹ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میری حمزہ شہباز سے درخواست ہے کہ وہ دیواروں کے پیچھے نی چھپیں اور گھر سے باہر آئیں تاکہ قانونی طریقے سے ان کی گرفتاری عمل میں لائی جاسکے۔














