
ریاض (ویب ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کا دورہ ،خادم الحرمین الشریفین شاہ
سلمان بن عبدالعزیز السعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں ۔ دورہ خطے میں امن اور سلامتی کےلئے وزیراعظم کی کوششوں کا حصہ تھا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز سید ذوالفقار عباس بخاری اور دیگر حکام سمیت اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھا۔
وزیراعظم کے سعودی عرب کے دورہ کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق ملاقاتوں کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات انتہائی گہرے اور کثیر الجہت ہیں ۔انہوں نے توانائی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون ، دوطرفہ تجارت اور عوام کے درمیان رابطوں کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
خلیج کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے فوجی تصادم سے گریز اور تمام فریقین کے درمیان تعمیری رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم عمران خان نے پرامن ذرائع سے اختلافات اور تنازعات کے حل اور کشیدگی میںکمی کےلئے سہولت کاری کی کاوشوں کےلئے پاکستان کی آمادگی کا اظہار کیا۔
سعودی قیادت نے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کے عزم کا اعادہ کیا اور تجارت ، توانائی ، سلامتی اور دفاع سمیت تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ سعودی عرب کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت اور کشیدگی میں اضافے سے گریز اور ایک پرامن حل کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا۔ سعودی قیادت نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ اور کشیدگی میںکمی کےلئے وزیراعظم عمران خان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔
سعودی قیادت کے ساتھ جامع اور تعمیری تبادلہ خیال کیا گیا ۔ معاملات کی پیچیدگی اور چیلنجوں کے پیش نظر فریقین نے اس عمل کو آگے بڑھانے کےلئے قریبی روابط اور مشاورت برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم نے سعودی قیادت کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں 70 سے زیادہ دن سے جاری مواصلاتی پابندیوں، مسلسل لاک ڈاﺅن اور کرفیو سمیت انسانی حقوق کی سنگین صورتحال اور انسانی بحران سے آگاہ کیا جس کی وجہ سے 80 لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے اور اس سے علاقے میں امن اور سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں ۔














