دسمبر سقوط ڈھاکا اور سانحہ اے پی ایس کی یاد دلاتا ہے،چیف جسٹس

اسلام آباد (ویب ڈیسک،خبر ایجنسی ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا ہے کہ

16دسمبر کی بدقسمت تاریخ ہمیں دو سانحات کے حوالہ سے یاددہانی کرواتی ہے جن کا ملک کو سامنا کرنا پڑا۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا نیشنل پولیس اکیڈمی میں اپنے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے سے خطابمیں کہنا تھا کہ سقوط ڈھاکہ میں سبق ہے کہ ایک ریاست سوشل کانٹریکٹ کے ذریعہ تخلیق پاتی ہے جو ریاست اور شہریوں کے درمیان ہوتا ہے۔ اگر سوشل کانٹریکٹ کمزور ہو جائے اور شہریوں اور ریاست کے درمیان انٹرایکشن مضبوط نہیں ہے اور اگر ریاست شہریوں کے حقوق کونظر انداز کرنا شروع کر دے اور اپنے آپ کو بہت زیادہ منوانا شروع کر دے تو پھر لوگ اس سوشل کانٹریکٹ سے خود کو توڑ لیتے ہیں۔
سولہ دسمبر کو ہی ہونے والے سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور نے ہمیں سب کو جھنجوڑ دیا تھا اور اس واقعہ نے ہمیں خواب سے جگایا اور اس واقعہ نے ہمیں مجبور کیا کہ ہم اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کریں۔ ہمیں ان چیزیوں ا ور ایجنڈا کی نشاندہی کرنی چاہیے جن پر ہم سب لوگ متحد ہو سکتے ہیں اور پھر بطور قوم اس پر عملدآمد کے لئے سب مل کر کام کریں تو کوئی چیز ایسی نہیں جسے ہم حاصل نہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی تقرری، تبادلہ اور ترقی کے حوالہ سے دباؤ استعمال کرتا ہے تو یہ مس کنڈکٹ میں شامل ہے، اس شخص کے خلاف کاروائی شروع کریں اور ساتھ ہی سفارش کے حوالہ سے لیٹر قومی احتساب بیورو (نیب)کوبھجوادیں اور اگر پانچ، چھ افراد کے خلاف کاروائی ہوتی ہے اور ان کے ادھر اُدھر تبادلے ہوتے ہیں اور پھر ہر کوئی ایسا کرنا شروع کر دیتا ہے تو پھر یہ قومی کلچر بن جائے گا اور کوئی بھی شخص سفارش کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ پولیس کو سیاسی بناتے ہیں وہ خود پولیس کو غیر سیاسی نہیں بنائیں گے۔ بدقسمتی سے کچھ وقت پہلے تک پولیس کے حوالہ سے یہ تاثرتھا کہ یہ بنیادی حقوق اور آزادیوں کو سلب کرتی ہے بجائے یہ کہ وہ بنیادی حقوق اور آزادیوں کو یقینی بنائے۔ پولیس کا کام تحفظ کرنا ہے نہ کہ خود ظلم کرنا۔