مشرف کو سزائے موت کے بجائےعمر قید ہونی چاہیے تھی

اسلام آباد(ویب ڈیسک ،خبرایجنسی ) سینئر قانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے

خلاف خصوصی عدالت کا فیصلہ انتہائی بے ہودہ ہے، فیصلہ غیر آئینی، غیر قانونی اور ناقابل عمل ہے، پیرا66لکھنے والے جج کی دماغی صحت کا معائنہ ضروری ہے۔ آرٹیکل211کے تحت جج بننے کی اہلیت پر پورا نہیں اترتے۔حکومت کا سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا فیصلہ درست ہے۔

 نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے کیس میں خصوصی عدالت کا فیصلہ بیہودہ ہے، لاش کو گھسیٹنا اور ڈی چوک پر لٹکانا پاکستان میں آئین کی کسی شق اور قانون کے مطابق جائز نہیں ہے۔ایسا کرنا کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ اس قسم کا فیصلہ طالبان نے افغانستان میں نجیب اللہ کی لاش کو لٹکا کر بربریت کی مثال قائم کی اور لاش میں بھوسہ بھر دیا تھا۔

 انہوں نے کہا کہ فیصلے کا پیرا66لکھنے والے جج جسٹس سیٹھ وقار کے خلاف آرٹیکل211کے تحت جج بننے کی اہلیت کا جائزہ لیا جائے اور ان کی دماغی صحت کا بھی معائنہ کیا جائے، اعتزاز احسن نے کہا کہ میں سزائے موت کے حق میں نہیں ہوں سزائے موت کے بجائے عمر قید ہونی چاہیے تھی۔

 انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ صدر پرویز مشرف نے3نومبر کو چیف جسٹس سمیت تمام ججز کو رعونت اور تکبر کے ساتھ گرفتار کیا اور پی سی او جاری کیا، میڈیا پر پابندیاں لگائیں اور ریاست کے خلاف بغاوت کی، اعتزاز احسن نے کہا کہ مشرف کو اکیلے سزا کا اعتراض بجا ہے۔ ایک شخص تنہا اتنا بڑا قدم نہیںکر سکتا۔ معاونین کا بھی ٹرائل ہونا چاہئے تھا، تاہم پیرا66کی روشنی میں فیصلہ ناقابل عمل ہے۔ آئین اس کی اجازت نہیں دیتا فیصلے سے ملک کو نقصان پہنچے گا۔