جج کا دل شیر،اعصاب فولاد جیسے ہونے چاہئیں، آصف سعید

اسلام آباد(ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی )چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اعزاز میں منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے

خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا ہے کے میرے نزدیک ایک جج کو بے خوف و خطر ہونا چاہیے۔ایک جج کا دل شیر کی طرح اور اعصاب فولاد کی طرح ہونے چاہئیں۔، اللہ گواہ ہے میں نے سچائی کے ساتھ اپنے حلف پر قائم رہنے کی مکمل کوشش کی۔

 انہوں نے کہا کہ اللہ گواہ ہے میں نے سچائی کے ساتھ اپنے حلف پر قائم رہنے کی مکمل کوشش کی،میں نے کبھی فیصلہ دینے میں تاخیر نہیں کی، میں ان سب سے معذرت خواہ ہوں جنہیں میرے فیصلوں کی وجہ سے ناچاہتے ہوئے تکلیف ہوئی،کل کے مشرف کے فیصلے کے بعد نہ صرف میرے خلاف بلکہ عدلیہ کے خلاف تضحیک آمیز مہم چلائی گئی۔

اایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی میڈہا سے ملاقات میں مشرف کیس میں رائے پر بات کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا مشرف کیس پر میرے اثر انداز ہونے سے متعلق بات بے بنیاد اور تضحیک آمیز ہے،مجھے اور عدلیہ کو بد نام کرنے کی گھنانی سازش ہے،سچ ہمیشہ زندہ رہتا ہے،میں نے بطور چیف جسٹس تعیناتی کے دورانیہ میں ویڈیو لنک ، ریسرچ سینٹر قائم کیا،سپریم کورٹ کی ویب سائٹ اپڈیٹ کی گئی،میرے دور میں موبائل فون ایپلیکیشن بنائی گئی،وہ اس دورانیہ میں ساتھ ججز ، لا افسران ، اور وکلاکے بھر پور تعاون پر مشکور ہیں ۔

 ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ قانون کی حکمرانی اور آئین کا تحفظ، آزاد عدلیہ کے چیلنجز سے نمبرز آزما ہوتی آئے ہے،ماضی میں بھی عدلیہ نے ان چیلنجز سے نمٹا ،آئین پاکستان ایک زندہ جاوید دستاویز ہے،عوام کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس اپنی ذمہ داروں کا سفر کامیابی سے مکمل کرنے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔