کورونا ازخود نوٹس:وفاق اور صوبے یکساں پالیسی بنائیں ورنہ عبوری حکم دیں گے

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) کورونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ وفاق

اور صوب یکساں پالیسی بنائیں ورنہ عبوری حکم جاری کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صدر،وزیر اعظم کے ارادے نیک ہوں گے لیکن کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ادارے کیا کررہے ہیں؟ سمجھ نہیں آرہی ملک میں کیا ہورہا ہے،ملک میں مکمل طور پر استحصال ہو رہا ہے،لگتا ہے وفاق اور صوبائی حکومتیں عوام کیخلاف سازش کر رہی ہیں، کسی چیز میں شفافیت نہیں سارے کام کاغذوں میں ہو رہے ہیں،جب آڈٹ ہوگا تو سب چیزیں سامنے آئیں گی۔کوئی یکساں حکمت عملی نہیں ہے، ایک وزیر کچھ کہہ رہا ہوتا ہے تو دوسرا کچھ کہتا ہے۔ایک صوبائی وزیر کہتا ہے وزیراعظم کے خلاف پرچہ درج کرائیں گے۔یعنی صوبائی وزیر کا دماغ بالکل آؤٹ ہے،دماغ پر کیا چیز چڑھ گئی یہ پتہ نہیں۔وفاقی حکومت کی پالیسی صرف 25 کلومیٹر تک محدود ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد کی باتیں آج سچ ثابت ہو رہی ہیں، انہوں نے 20 سال پہلے آج کے حالات بتا دیے تھے۔جسٹس عمر بندیال نے ریمارکس دیے کہ ایک اچھی اور وژینری لیڈر شپ کا فقدان ہے، وفاق میں بیٹھے لوگوں کا رویہ متکبرانہ نظر آ رہا ہے۔ اس روئیے سے وفاق کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ کیا وفاق میں بیٹھے لوگوں کو ایسی زبان استعمال کرنی چاہیے۔ انا اور ضد سے حکومتی معاملات نہیں چلتے۔
پیر کوز چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ میں کورونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل،صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز، این ڈی ایم اے، وزارت صحت اور دیگرمتعلقہ محکموں کے حکام بھی عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر وفاق اور صوبوں کی رپورٹس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ٹیسٹنگ کٹس اور ای پی پیز پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں، ماسک اور دستانوں کے لئے کتنے پیسے چاہیے۔
سیکرٹری صحت نے بتایا کہ ملک میں روزانہ ایک ہزار کورونا کیسز سامنے آ رہے ہیں، کورونا کیسز مثبت آنے کی شرح 10 فیصد ہے۔جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ بازاروں میں لوگوں کو ڈنڈوں کے ساتھ ماراجا رہا ہے، حکومت نے مارکیٹس بند کرکے مساجد کھول دیں، کیا مساجد سے کورونا وائرس نہیں پھیلے گا، 90 فیصد مساجد میں ریگولیشنز پرعمل نہیں ہو رہا، اگر فاصلہ رکھنا ہے تو ہر جگہ رکھنا ہوگا۔ عدالت نے وفاق اور صوبوں کو یکساں پالیسی بنانے کیلئے مہلت دیتے ہوئے مزید سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی۔