اپوزیشن جماعتوں کا جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف حکومتی ریفرنس کے اخراج کا خیر مقدم

اسلام آباد(ویب ڈیسک) اپوزیشن جماعتوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف حکومتی ریفرنس کے اخراج کا خیر مقدم کرتے ہوئے عدالت

عظمیٰ سے بدنیتی پر مبنی اس ریفرنس کے حوالے سے کارروائی کا مطالبہ کردیا، اپوزیشن جماعتوں نے قرار دیا ہے کہ اس ریفرنس کے ذریعے ججز کے کاموں کو روکنے کی کوشش کی گئی، انہیں ہراساں کیا گیا۔
عدالت عظمیٰ کو نوٹس لینا چاہیے، اپوزیشن جماعتوں نے بلوچستان اور دیگر علاقوں میں ڈیتھ اسکواڈ کو ختم کرنے اور اس کیخلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے، مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میدان میں آگئے ہیں۔ وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتمادکا آپشن موجود ہے تاہم اپوزیشن کی پارلیمنٹ میں پہلے بھی اکثریت تھی چیئرمین سینٹ کے انتخاب کے موقع پر تاریخ کا جو بدترین واقعہ رقم ہوا وہ سب کے سامنے ہے عدم اعتماد کے عمل کے نتائج کا حصول بھی ممکن ہونا چاہیے جبکہ سردار اختر مینگل نے واضح کیا ہے کہ حکومت میں واپسی اب ان کے بس میں نہیں ہے۔
بی این پی مینگل پہلی جماعت ہے جس نے فلور آف دی ہاؤس حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے، بلوچستان کے سرداروں، نوابوں اور تین سابق فوجی صدور جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کی دولت سے موازنہ کرلیں پتہ لگ جائے گا کون ارب پتی اور کروڑ پتی تھا۔ ان خیالات کا اظہار دونوں رہنماؤں نے قومی مسائل بشمول بلوچستان کے مسئلہ پر ہفتہ کو اسلام آباد میں اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دیگر جماعتوں کے رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔
صدر اے پی سی اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پریس کانفرنس میں اے پی سی کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ 18ویں ترمیم میں کوئی تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی۔ 18ویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ میں کمی کیخلاف مزاحمت کریں گے۔
آل پارٹی کانفرنس صوبہ بلوچستان میں بالخصوص ایف سی کی ظالمانہ انتظامی اختیارات ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے اور تمام ملک بالخصوص بلوچستان میں لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کا مطالبہ کرتی ہے اور ملک میں جاری غیر آئینی اور غیر قانونی گرفتاریوں کی مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اس غیر آئینی غیر قانونی اور غیر انسانی عمل کو فوری طورپر روکا جائے اور گرفتار افراد کو فوری طورپر رہا کیا جائے۔ آل پارٹی کانفرنس ملک میں جاری میگا پراجیکٹس سی پیک کے جاری منصوبوں پر اجلاس میں تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں شریک جماعتوں نے محسوس کیا ہے کہ سی پیک میں بلوچستان کو مکمل طورپر نظر انداز کیا گیا ہے اور تاحال سی پیک کے حوالے سے کوئی پراجیکٹ لانچ نہیں کیا گیا۔ آل پارٹی کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ سی پیک میں شامل صوبے کے تمام اہم منصوبوں پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔
کانفرنس ریاستی سرپرستی میں بلوچستان بھر میں ڈیتھ اسکواڈ کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے، تفتان اور چمن بارڈر کو دوبارہ کھولنے اور اسے فعال بنانے کا مطالبہ کرتا ہے، مقامی آبادی کو قانون کے مطابق کاروبار کی مکمل اجازت دی جائے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بلوچستان حکومت کی تبدیلی کیلئے صوبائی سطح پر مشاورت کا اعلان کردیا ہے۔