
اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان میں ڈاکٹرز کی اکثریت نے کورونا کے پیش نظر عوام کو احتیاطی تدابیر پر عمل جاری رکھنے کا مشورہ
دیا ہے اور کہا ہے کہ کورونا کا خطرہ موجود ہے اور وبا کے اثرات مسلسل پھیل رہے ہیں۔ ڈاکٹرز نے حکومت سے کورونا کے مکمل کنٹرول تک سخت اقدامات جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈاکٹرز نے ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی فراہمی کو تسلی بخش قرار دیا۔ مجموعی طور پر ڈاکٹرز اس وباء میں پاکستان کے ردعمل سے مطمئن ہیں۔ یہ نتائج پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن(پیما) اور گیلپ پاکستان کے تحت مشترکہ سروے کی روشنی میں مرتب کیے ہیں۔ یہ پاکستان میں ڈاکٹرز اور طبی شعبے سے منسلک افراد کا پہلا قومی سروے تھا جس میں چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے400 سے زائد مرد اور خواتین ڈاکٹرز کی آراء لی گئیں۔ اس سروے کا مقصد کورونا فرنٹ لائن ڈاکٹرز کی اس وباء، طبی عملے کو میسر سہولیات اور اس سے نمٹنے سے متعلق حکمت عملی کے بارے میں رائے جاننا تھا۔
ڈاکٹرز نے لاک ڈاؤن، ڈاکٹرز کے لیے PPEs کی فراہمی، ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی دستیابی، اس وباء میں قومی ردعمل، ڈاکٹرز کے بارے میں میڈیا اور عوام میں تاثر، ڈاکٹرز کی حفاظت سے متعلق ذمہ داری اور مجموعی کارکردگی سے متعلق سوالات کیے گئے تھے۔ 66فیصد ڈاکٹرز نے صورتحال کے بہتر ہونے تک لاک ڈاؤن جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔ 58فیصد ڈاکٹرز نے ماسک، گاؤن، حفاظتی شیلڈ، دستانوں کی فراہمی کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔ 37فیصد نے نرسز، 46فیصد نے ٹیکنیکل سٹاف اور 51 فیصد نے دیگر طبی عملے کو حفاظتی سامان کی عدم دستیابی کو پریشان کن مسئلہ قرار دیا۔














