وفاقی حکومت بے بس،اس کی رٹ کہاں ہے،کیا ایسے پاکستان چلائے گی،سپریم کورٹ

اسلام آباد(ویب ڈیسک)چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سندھ میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ از خود نوٹس

کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی آخررٹ کہاں ہے؟و فاقی حکومت کی رٹ اگر کے الیکٹرک پر نہیں تو پورے ملک پر بھی نہیں وفاقی حکومت کیا کررہی ہے؟کیا وفاقی حکومت ایسے پاکستان چلائیگی؟کراچی کے کرتا دھرتا تومنہ سے نوالہ بھی چھین لیتے ہیں وفاقی حکومت بالکل بے بس ہے۔
سپریم کورٹ نے نیپرا قانون کے سیکشن 26 پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوے قرار دیا کہ قانون کے تحت نیپرا کو عوامی سماعت کرکے فیصلے کا اختیار ہے، نیپرا قانون کے مطابق کے الیکٹرک کے کراچی میں بجلی سپلائی کے خصوصی اختیار کا فیصلہ کرے، عدالت نے دس دن میں نیپرا ٹربیونل کے ممبران کو بھی تعینات کرنے کا حکم دیا ۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سیکشن 26 کے اختیار کے استعمال پر کوئی عدالت حکم امتناع نہیں دے سکے گی، سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک کیخلاف نیپرا اقدامات پر جاری شدہ حکم امتناع بھی خارج کر تے ہوے نیپرا سے کارروائی پر منی رپورٹ بھی طلب کر لیں۔
سندھ میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ از خود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان گلزا ر احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی دوران سماعت عدالت نے کے الیکٹرک اور پاور ڈویژن پر اظہار برہمی کیا چیف جسٹس پاکستان نے کہا 2015 سے کے الیکٹرک نے ایک روپیہ حکومت کو نہیں دیا،کے الیکٹرک عوام کوبجلی اور حکومت کو پیسے نہیں دیتی خواہ مخواہ کہا جاتا ہے کراچی معیشت کا 70 فیصد دیتا ہے کراچی کے پاس دینے کے لیے اب کچھ نہیں ۔
کراچی میں اربوں روپے جاری ہوتے پر خرچ کچھ نہیں ہوا۔کراچی والوں کے بیرون ملک اکاونٹ فعال ہوچکے ہیں ۔کراچی میں مال بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔پہلے ہی اربوں روپے بیرون ملک جاچکے ہیں ۔وفاقی حکومت کی آخررٹ کہاں ہے4 سال میئر رہنے والے نے ایک نالی تک نہیں بنائی جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکراچی کے حالات بدسے بدتر ہوتے جارہے ہیں چیف جسٹس نے کہاوفاقی حکومت کی اگر کے الیکٹرک پر رٹ نہیں تو پورے ملک پر بھی نہیں وفاقی حکومت کیا کررہی ہے؟ وفاقی حکومت ایسے پاکستان چلائیگی؟کراچی کے کرتا دھرتا تومنہ سے نوالہ بھی چھین لیتے ہیں وفاقی حکومت بالکل بے بس ہے۔
چیف جسٹس نے کہاپاور ڈویڑن کی رپورٹ کے الیکٹرک سے پیسے لیکر بنائی گئی کیوں نہ ایسی رپورٹ پر جوائنٹ سیکرٹری کو نوکری سے فارغ کر دیں ، ہم نے موجودہ صورتحال پر رپورٹ مانگی تھی انہوں نے مستقبل کا لکھ دیا۔ مستقبل کو چھوڑ دیں، اب کیا کررہے ہیں اس کا بتایا جائے، پاور ڈویزن والوں کو کراچی لے جائیں دیکھیں لوگ کیسے ان کو پتھر مارتے ہیں۔کراچی جاکر ان لوگوں کا دماغ ٹھیک ہو جائے گا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاہم نے کہا تھا کہ نیپرا اور دیگر ادارے کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کا حل نکال کر آئیں۔کراچی میں بارشوں کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے
,چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت پاکستان کے الیکٹرک کی کلرک اور منشی بنی ہوئی ہے ۔کے الیکٹرک نے 2015 سے رقم جمع نہیں کرائی آپ لوگ ان کے ترلے کررہے ہیں،چیف جسٹس نے کہاجس پاور ڈویڑن والے افسر نے رپورٹ جمع کرائی اس کو پھانسی دے دینی چاہیے چیف جسٹس نے سیکریٹر ی پاور ڈویثرن سے استفسار کیا کہ آپ کو کے الیکٹرک والوں نے کتنے پیسے دیئے ہیں جواب جمع کرانے کے، چیف جسٹس نے کہااداروں کی آپس میں کوئی ہم آہنگی نہیں،اس بار بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے ،وفاقی حکومت کے الیکٹرک کو سبسڈی دے رہی ہے ۔آج بھی آدھا کراچی پانی اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے،کراچی میں مال بنانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔لوگوں کے بیرون ملک بنک اکاونٹس حرکت میں آگئے ہونگے، فارن بنک اکاونٹس میں پیسے جارہے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہاہم نے جس دن سے نوٹس لیا ہے شہر کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے شہر سے باقی سارا جوس نکال لیا ہے جو چند قطرے بچے ہیں وہ بھی نکال رہے ہیں
چیف جسٹس نے کہاکمیشن کا کیا فائدہ جس نے کام کرنا تھا وہ کر گیا,حکومتی معاملات سمجھ سے باہر ہیں جسٹس اعجازالاحسن نے کہاسانپ نکل گیا ہے اور آپ لکیر پیٹ رہے ہیں,عدالت نے نیپرا سے رپورٹ طلب کرتے ہوے سماعت ملتوی کردی۔