
کراچی(ویب ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کے
درمیان ہونے والے میثاقِ جمہوریت اور اس کی روشنی میں جمہوری اصولوں کی پیروی کا تجدید عہد نو کرتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا ہے کہ 1973ءکے آئین پر آنکھیں بند کرکے عمل کیا جائے، کیونکہ یہ ہی وہ واحد راستہ ہے، جو پاکستان کے روشن مستقبل کی جانب جاتا ہے،دونوں جماعتوں نے آج رہبر کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کا اعلان کیا ہے اور رہبر کمیٹی کے بعد آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے بلاول ہاوَس کراچی پہنچ کر سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی، جو سندھ میں طوفانی بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے اور صوبے کی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے سلسلے میں کراچی کا دورہ کرنے آئے تھے۔
احسن اقبال، محمد زبیر، مریم اورنگزیب، مفتاح اسماعیل، شاہ محمد شاہ اور دیگر رہنما بھی میاں شہباز شریف کے ہمراہ تھے، جبکہ فرحت اللہ بابر، نثار احمد کھوڑو، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سید نوید قمر، وقار مہدی، عاجز دھامراہ اور دیگر پی پی پی رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ملاقات کے دوران حالیہ شدید بارشوں سے تمام صوبوں میں پیدا ہونے والی صورتحال اور عوام کو درپیش مشکلات پر تبادلہ خیال کیا گیا، اور ملک کی سیاسی صورتحال پر بھی مشاورت کی گئی۔ دونوں پارٹیوں کی قیادت نے اتفاق کیا کہ ملک میں آئین و پارلیمان کی بالادستی، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی، جمہوری عمل کی حفاظت اور عوام کے آئینی و جمہوری حقوق کو بچانے کے لیئے مِل ج±ل کر جدوجہد کی جائے گی۔ رہنما اِس پر بھی متفق تھے کہ موجودہ حکومت کو گھر بھیجنے کے لیئے تمام آئینی آپشنز استعمال کیئے جائیں گے، کیونکہ اِس حکومت کی ناکامیاں اور نااہلیاں ملک و عوام کے لیئے عذاب بن گئی ہیں۔ دونوں جماعتیں نے موجودہ حکومت کی جانب سے احتساب کی آڑ میں جاری کارروائیوں کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت بھی کی۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سید نوید قمر، فرحت اللہ بابر پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماو¿ں کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کے احسن اقبال، مفتاح اسماعیل، مریم اورنگزیب بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات کے بعد ملاقات کے بعد بلاول ہاو¿س کراچی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماو¿ں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔پیپلزپارٹی کے سید نوید قمر نے مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے رفقا کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو مشکل وقت میں ہمارے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے کراچی تشریف لائے۔ا
ن کا کہنا تھا کہ یہ مسلم لیگ کا نہ صرف پیپلز پارٹی بلکہ سندھ کے لوگوں کے لیے مثبت قدم ہے کیونکہ یہ ایک ایسا موقع ہے کہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی اور نیچا دکھانے کے بجائے پورے ملک کو لوگوں کی تکالیف کو سامنے رکھ کر اس کا حل نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ نوید قمر نے کہا کہ ان کا یہاں آنا یہ پیغام دیتا ہے کہ جب ہم چاہتے ہیں تو تمام جماعتیں یہاں کے لوگوں کے لیے اکٹھی ہو جاتی ہیں اور بدقسمتی سے اب صرف سندھ نہیں بلکہ اور صوبوں میں بھی سیلاب اور بارشوں کا مسئلہ شروع ہو رہا ہے اور اس کے لیے ہماری مشترکہ منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی یہ ہے کہ اس اقدام کا اعلان وزیر اعظم کو کرنا چاہیے تھا اور ناصرف وفاقی بلکہ صوبائی حکومتوں کو بٹھا کر اس معاملے پر بات کرنی چاہیے تھی۔
انہوں نے کاکہا کہ یہ وقت نکتہ چینی کا نہیں بلکہ مِل بیٹھنے کا ہے۔ وزیراعظم کو چاہیئے تھا کہ موجودہ صورتحال میں وہ پوری قوم کو اکٹھا کرتے۔ انہوں نے کہا کہ کل اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوگا، جس میں تفصیلات آئیں گی لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس کی بھی تاریخ آ جائے اور کل والی میٹنگ میں اس کی بھی تاریخ دی جائے گی۔














